صوبائی حکومت ہمارے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی،حاجی عبداللہ خان صافی

گزشتہ دو مہینوں سے ایپکا کے ورکر جائز مطالبات کے لئے سٹرکوں پر سراپا احتجاج ہیں،مظاہرے سے خطاب

منگل اپریل 21:16

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹر ی حاجی عبداللہ خان صافی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ہمارے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا ۔ گزشتہ دو مہینوں سے ایپکا کے ورکر اپنے جائز مطالبات کے لئے سٹرکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔

بارہا مطالبات کئے حکمرانوں کو لکھ کر دیا ، لیکن حوصلہ افزاء پذیرائی نہیں ملی۔ بہ حالتِ مجبوری اپنے کارکنوں کے عزت نفس کی بحالی کیلئے میدان میں نکلے ہیں ۔ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے احتجاج کا رُخ حکمرانوں کے ایوانوں کی جانب موڑ دیں اور حکمرانوں کے گھیرائو کے لئے ایپکا بلوچستان کے صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا کر بہت جلد فیصلہ کرینگے۔

(جاری ہے)

اور ہم سے تعاون نہ کرنے والے عوامی نمائندے آنے والے انتخابات میں ملازمین سے تعاون کی کوئی توقع نہ رکھیں۔ اب اپنے جائز مطالبات کے حل ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے ۔ یہ بات اُنہوں نے منگل کے روزایپکا کے کارکنوں سے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ قبل ازیں میٹروپولیٹن کوئٹہ کے سبزازار سے سے ایپکا ضلع کوئٹہ کے جانب سے صوبائی چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

احتجاجی ریلی کی قیادت ایپکا بلوچستان کے قائمقام صوبائی صدر محمد یونس خان کاکڑ نے کی۔ احتجاجی ریلی کی نگرانی ایپکا ضلع کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری اور دیگر ضلعی عہدیداروں نے کی۔ مظاہرے میںشریک ایپکا کے کارکنوں نے مختلف قسم کے بینرزاور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے۔ جن پر مختلف قسم کے مطالباتی نعرے درج تھے۔ احتجاجی ریلی مختلف شاہرائوں سے ہوتا ہو ا پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی۔

احتجاجی مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایپکا بلوچستان کے قائمقام صدر محمد یونس کاکڑ ، صوبائی جنرل سیکریٹری حاجی عبداللہ خان صافی، ایپکا ضلع کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری، جنرل سیکریٹری محمد عارف مینگل نے کہا کہ کہ ایپکاکے ممبران جب بھی سڑکوں پہ آئے ہیں ۔ توحکومت کو اپنے مطالبات منوانے پہ مجبور کیا ہے۔

ایپکا نے جو بھی ڈیمانڈپیش کیا ہے وہ جائز اور حقائق پر مبنی ہیں۔ ایپکا کبھی بھی وہ ڈیمانڈ پیش نہیں کریگی جسکا دفاع مذاکرات کے ذریعے نہ کرسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ملازمین کا سرکاری دفاتر میں جاری احتجاج حکمرانوں کے غلط پالیسیوں اور صدیوں سے جاری استحصالانہ نظام کے باعث ہورہا ہے۔ کچھ ڈیپارٹمنٹس کو مراعات سے نواز کر بلوچستان کی اکثریتی محکمہ جات کے ملازمین کو مراعات سے محروم رکھ کر احساسِ محرومی کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے۔

ریاست کے لئے سب برابر ہیں تمام ملازمین کو یکساں مراعات دی جائیں۔ ایپکا کے ورکرز شدید مہنگائی اور قلیل تنخواہوں کی باوجود سرکاری مشینری کو چلارہے ہیں۔ بہ حالتِ مجبوری حکمرانوں کے وعدہ ایفاء نہ ہونے کے باعث احتجاج کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ٹیکنکل و نان ٹیکنکل سٹاف جو اپ گریڈیشن سے رہ گئے ہیں اُنکو اپ گریڈ کیا جائے، ہائوس ریکوزیشن اور یوٹیلیٹی الائونس سمیت تمام جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

بلوچستان کے تمام اضلاع میںاحتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ جس میں ضلع مستونگ، قلات ، خضدار، لسبیلہ ، کیچ ، پنجگور، آواران ، واشک ، خاران، چاغی، نوشکی ، پشین ، زیارت، قلعہ عبداللہ، لورالائی، ژوب ، شیرانی، سبی ، بولان، نصیرآباد، جعفر آباد، جھل مگسی ، ڈیرہ بگٹی ، کوہلو ، بارکھان نے احتجاجی مظاہرے کئے۔