شاہدرہ میں سسرالیوں کے ہاتھوں پیٹرول چھڑک کر جلائی جانے والی خاتون میو ہسپتال میں دم توڑ گئی

مقتولہ فوزیہ کے بیان پر ساس ،جیٹھانی اور دیوروں کیخلاف مقدمہ درج ،گرفتاری کیلئے چھاپے ، ملزمان فرار ، رشتہ دار گرفتار وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی

بدھ اپریل 14:38

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) شاہدرہ کے علاقے مجید پارک میں سسرالیوں کے ہاتھوں پیٹرول چھڑک کر جلائی جانے والی خاتون میو ہسپتال میں دم توڑ گئی،،پولیس نے مقتولہ فوزیہ کے بیان پر اسکی ساس ،جیٹھانی اور دیوروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا لیکن تمام ملزمان گھر کو تالا لگا کر فرار ہوگئے،،پولیس نے ملزموں کے ایک رشتہ دار کو حراست میں لے لیا،وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ۔

بتایا گیا ہے کہ فیروز والا بیگم کوٹ شاہدرہ کے علاقے مجید پارک میں فوزیہ شوکت نامی 24سالہ خاتون کو گزشتہ روز ان کے سسرالیوں نے پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی تھی۔ فوزیہ کو گزشتہ روز شدید تشویشناک حالت میں لاہور کے میو ہسپتال لایا گیا تھا۔

(جاری ہے)

آگ لگنے کے باعث فوزیہ کا 90فیصد جسم جل چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے خاتون کو بچانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی اور دم توڑ گئی۔

فوزیہ نے اپنے آخری بیان میں خود کو جلانے کا ذمہ دار اپنی ساس ، جیٹھانی اور دیوروں کو قرار دیا تھا۔27سالہ فوزیہ کا کہنا تھا کہ اس کی 2سال پہلے شمریز سے شادی ہوئی تھی اور کچھ عرصے بعد شوہر روزگار کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔سسرالیوں نے اسے تنگ کیا تو وہ میکے چلی گئی، لیکن 2روز قبل اس کے خاوند نے فون پر کہا کہ سسرال جا اور اپنی ساس سے معافی مانگ کر وہاں رہو۔

خاتون کے مطابق وہ اپنے سسرال گئی جہاں مبینہ طور پر اس کی ساس، جیٹھانی اور دیوروں نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔۔تھانہ شاہدرہ پولیس نے فوزیہ کے بیان پر اس کے جیٹھ اکرام ،جاوید، سحر اور ساس کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے، لیکن تمام ملزمان گھر کو تالا لگا کر فرار ہوگئے۔ تاہم پولیس نے ملزموں کے ایک رشتہ دار عارف کو حراست میں لے لیا۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔