سپریم کورٹ کا مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق نئی رپورٹ پیش نہ کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکیورٹی اداروں پر برہمی کا اظہار ،کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے ،ْآپ کس طرح ملک چلا رہے ہیں، کیا یہ ملک خوف میں رہنے کے لیے بنایا گیا ہی ،ْجسٹس فائز عیسیٰ

کسی شہری کی املاک پر آنچ نہیں آنی چاہیے، سرکاری ملازم ملک کے حکمران نہیں خادم ہیں ،ْمعزز چیف جسٹس کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں مگر کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے ،ْریمارکس

بدھ اپریل 23:26

سپریم کورٹ کا مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق نئی رپورٹ پیش نہ کرنے پر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر ہونے والے مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق نئی رپورٹ پیش نہ کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکیورٹی اداروں پر برہمی کا اظہار کردیا۔بدھ کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہیں اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل آج ملک سے باہر ہیں پہلے تو یہیں تھے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سیکیورٹی اداروں کی طرف سے مزید رپورٹس آئی ہیں، اور اگر نہیں آئیں تو کیوں نہیں آئیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نئی رپورٹ کے لیے عدالتی ہدایات نہیں تھیں۔

(جاری ہے)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ رواں برس 18 فروری کے حکم نامے میں سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی گئی تھی، رپورٹ پیش ہونے کے بعد اسے غیر اطمینان بخش قرار دیا گیا تھا اور کیا دوبارہ رپورٹ نہیں آنی چاہیے تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس طرح ملک چلا رہے ہیں، کیا یہ ملک خوف میں رہنے کے لیے بنایا گیا ہی نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے ،ْیہ ملک فوج نے نہیں بنایا عوام کی قربانیوں سے ملک بنا اور میرے آباؤاجداد نے بھی تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا، یہ ملک اشاروں پر نہیں چلے گا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ پڑھیں پاکستان کس طرح بنایا گیا، قائداعظم کے اردگرد ایسی لیڈر شپ تھی جو پاکستان بنانا چاہتے تھے، قائداعظم کے ساتھ کوئی بریگیڈ نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کسی شہری کی املاک پر آنچ نہیں آنی چاہیے، سرکاری ملازم ملک کے حکمران نہیں خادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ معزز چیف جسٹس کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں مگر کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیکیورٹی اداروں کو ان کے پس منظر اور ذرائع آمدن کا پتہ نہیں ہے۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں فنڈز کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان لوگوں نے چندہ اکھٹا کیا تھا اور 35 ہزار لوگوں نے دھرنا قائدین کو چندہ دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ فرض کیوں نہ کیا جائے کہ ہمارے دشمنوں نے یہ پیسہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ججز کو ہدف بنانا پاکستان میں جائز ہے جبکہ جو لوگ گاڑیاں جلائیں تشدد کریں، راستے بند کریں ان پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ عشق والوں نے غلیظ زبان استعمال کی ،ْیہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں، کیونکہ یہ لوگ اسلام کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے نفرت کریں۔عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔