غیر ملکی تسلط کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والوں کو آزادی اور انصاف کی فراہمی سے انکار کرکے بین الاقوامی امن او استحکام کو فروغ نہیں دیا جاسکتا

پرامن مظاہرے پر فائرنگ سے 35 فلسطینیوں کی شہادت کو پوری دنیا نے دیکھا لیکن سلامتی کونسل اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی نہ کرسکی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال

جمعہ اپریل 13:13

غیر ملکی تسلط کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والوں کو آزادی اور انصاف کی ..
اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے اور تسلط کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والوں کو آزادی اور انصاف کی فراہمی سے انکار کرکے بین الاقوامی امن او استحکام کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کے دوران غیر ملکی قبضے اور تسلط کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بنیاد مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر رکھی جاسکتی ہے۔

انہوں نے خبر دار کیا کہ مسئلے کے ایک ریاستی حل کا سراب امن فراہم کرے گا نہ سلامتی۔ فلسطینی باشندوں کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے کے دوران کسی اور قوم نے اس قدر ناانصافیوں کا سامنا نہیں کیا جس قدر ناانصافیوں کا سامنا فلسطینیوں نے کیا ہے۔

(جاری ہے)

گذشتہ ستر سال کے دوران ان کو ان کے مادر وطن اور گھروں سے نکال باہر کیا گیا، اسرائیلی فوج نے ان کے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور اس انہیں ایسے حالات میں زندگی گذارنے پر مجبور کیا گیا جو نسلی تعصب سے مشابہ ہیں۔

پاکستانی مندوب نے غزہ میں گریٹ مارچ آف ریٹرن کے دوران اسرائیل کے ظالمانہ قبضے اور غاصبانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پرامن احتجاج کو قابض طاقت نے قتل گاہ میں تبدیل کردیا اور نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے مناظر کو پوری دنیا کے لوگوں نے ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔ پاکستانی مندوب نے یاد دلایا کہ 35 فلسطینی باشندوں جن میں 14 سال کے بچے بھی شامل تھے کو قتل کردیا گیا لیکن سلامتی کونسل نے ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور فلسطینیوںکی طرف سے ان کو انصاف فراہم کرنے کے مطالبے کو مغروری سے مسترد کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑی طاقتوں کی سیاست اور خطہ کے ممالک کے مفادات کے ٹکرائو کا نتیجہ ہے جس کی بدولت خطے کے لاکھوں مکین مصائب کا شکار ہیں اور یہ صورتحال ایک طویل عرصہ سے جاری ہے اور خطہ عدم استحکام کا شکار ہے جس نے بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرات پیدا کردیئے ہیں، جنگ اور تشدد کی یہ آگ خطے میں مفادات کا ٹکرائو پیدا کرکے اسے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے ایک بڑے خطرے میں تبدیل کرسکتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ جسے کچھ لوگ مسائل کا شکار خطہ قرار دیتے ہیںکے مسائل کا تجزیہ کرے۔ ان میں سے بہت سے مسائل غیر ملکی قبضے، مداخلت اور فلسطینیوں کی زمینوں کو اسرائیلی حدود میں شامل کرنے کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ پاکستانی مندوب نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی رپورٹس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خواہ کسی کی طرف سے ہو اور کہیں بھی ہو ، یہ ایک گھنائونا،غیر قانونی اورقابل مذمت عمل ہے۔

انہوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لئے او پی سی ڈبلیو کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشن حقائق کو سامنے لانے میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم تمام متعلقہ فریقوں سے یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اقوام متحدہ کے چارٹر سے اور بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہ رکھتا ہو، جب تک انسانی زندگی اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری نہیں کی جاتی غیر معمولی تباہی کی طرف دنیا کا سفر جاری رہے گا۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ امن عمل کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی کوارڈینیٹر نکولے ملادینوف نے غزہ سے لے کر شام اور یمن تک خطے کی صورتحال کو دھماکا خیز قرار دیا اور اس کی ذمہ داری بیرونی مداخلت پر عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مشرق وسطیٰ میں لگی آگ نہ صرف دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے بلکہ یہ پورے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کو آکسیجن کی فراہم کا مستقل ذریعہ بھی ہے۔