وفاقی وزیر داخلہ نے مدارس کے مسائل کے حل اور علما کرام کی شکایات کے ازالے کے احکامات جاری کر دئیے

مدارس کے کوائف جمع کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کے عزم کا اظہار بے گناہ علما کرام کے نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے تاہم مشکوک سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی مانیٹرنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے گا، احسن اقبال کے زیر صدارت اجلا س میںوفاق المدارس العربیہ پاکستان کے وفد کے مطالبات پر غور و غوض

پیر اپریل 23:11

وفاقی وزیر داخلہ نے مدارس کے مسائل کے حل اور علما کرام کی شکایات کے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے مدارس کے جملہ مسائل کے حل اور علما کرام کی شکایات کے ازالے کے احکامات جاری کر دئیے، مدارس کے کوائف جمع کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کے عزم کا اظہار، بے گناہ علما کرام کے نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے تاہم مشکوک سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی مانیٹرنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے گا ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے ملاقات کرنے والے وفد کے مطالبات پر غور و غوض اور پیش رفت کا آغازکر دیا گیا -وزیر داخلہ احسن اقبال کی سربراہی میں پیر کے روز وزارت داخلہ میں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں تمام متعلقہ محکموں، ڈی جی نیکٹا احسان غنی،،وزارت داخلہ کے اعلی افسران اور چیف کمشنر و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی- ناظم اعلی وفاق المدارس کی خصوصی ہدایت پر مولانا ظہور احمد علوی اور مولانا عبدالقدوس محمدی نے وفاق المدارس کی نمائندگی کی-اس موقع پر دینی مدارس کو درپیش مسائل اور علما کرام اور مساجد کے ائمہ و خطبا کے مختلف مسائل زیر بحث آئی-وفاقی وزیر داخلہ نے دینی مدارس کے حوالے سے حل طلب مسائل کے حوالے سے غیر ضروری تاخیر ہر برہمی کا اظہار کیا اور اسے دینی طبقات اور حکومت کے مابین عدم اعتماد کی فضا پیدا ہونے کا باعث قرار دیا- انہوں نے سیکرٹری وزارت داخلہ،،ڈی جی نیکٹا سمیت دیگر افسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ چاروں صوبوں کے متعلقہ لوگوں کا ہنگامی اجلاس طلب کریں اور دینی مدارس کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں-انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ کے لیے انڈیا نے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں جبکہ پاکستان میں غیر ملکی طلبہ کے آنے پر ناروا پر پابندی عائد ہے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے عالمی حالات اور ملکی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے غیر ملکی طلبہ کے لیے ویزوں کے اجرا کی پالیسی طے کرنی ہو گی تاکہ پاکستان کے دینی مدارس سے علم حاصل کر کے اپنے علاقوں میں جانے والے طلبا پاکستان کے سفیر کے طور کردار ادا کر سکیں-اوزیر داخلہ نے ملک بھر میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کا یکساں طریقہ کار رائج کر کے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی بھی تاکید کی اور وفاق المدارس کے اس مطالبے سے بھی اتفاق کیا کہ کوائف طلبی کے حوالے سے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے گا اور تمام اہلکاروں کو ایک ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے گا-وفاقی وزیر داخلہ نے قربانی کی کھالیں جمع کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت پر کہا کہ رجسٹرڈ مدارس کو قربانی کی کھالیں یا عطیات جمع کرنے کے لیے مزید کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ایسا کرنے سے غیر رجسٹرڈ مدارس رجسٹریشن کروانے میں دلچسپی محسوس کریں گی-انہوں نے بینکوں کی طرف سے دینی مدارس کے اکانٹس کھولنے میں ٹال مٹول پر بھی حیرت کااظہار کیا اور کہا کہ اکاونٹس اور بینکوں کے ذریعے مالی لین دین مالیاتی نظام کی شفافیت کا ذریعہ ہی-ہمیں دینی مدارس کو بینک اکانٹس کھلوانے میں سہولت مہیا کرنی چاہیی-وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ فورتھ شیڈول میں کسی بھی بے گناہ شخص کا نام ہر گز نہیں رہنا چاہیے تاہم مشکوک اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جانا چاہیی-وفاقی وزیر داخلہ نے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو دینی مدارس کے معاملات کو سنجیدگی اور نیک نیتی سے حل کرنے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے سے دینی مدارس کو مین اسٹریم میں لانے میں آسانی ہوگی-مولانا ظہور احمد علوی اور مولانا عبدالقدوس محمدی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس میٹنگ کو درس سمت کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا وفاقی وزیر داخلہ ایک پڑھے لکھے، اسلام پسند اور محب وطن پاکستانی ہیں جن سے بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دینی مدارس کے دیرینہ حل طلب مسائل کو ذاتی دلچسپی سے حل کروا کر اپنی نیک نامی میں اضافہ کریں گے انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے حکومت کے پاس موجود انتہاء مختصر وقت میں کیا عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں