15سالہ اعجاز اللہ دریائے چترال میں نہاتے ہوئے ڈوب کرجاں بحق ،لاش لاپتہ

اگر نعش افغانی بحری حدود میںپہنچ جائے تواسے ارسون نگر پہنچا یاجائے ، والدین کی حکومت سے اپیل دریائے چترال کے گردحفاظتی دیوار تعمیر کی جائے ، عوام کا مطالبہ

پیر اپریل 23:35

چترال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) چترال ، 15سالہ اعجاز اللہ دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب کرجاں بحق ،لاش لاپتہ ہے،اعجاز اللہ کے والدین نے اپیل کی ہے کہ دریا میں نہانے پر دفعہ 144نافذ کر کے پابندی لگائی جائے اور حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے ، اگر اعجاز اللہ کی لاش افغانستان کی بحری حدود میںپہنچ جائے تواسے ارسون نگر میں ان کے گھر پہنچا دیں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق پیر کو اعجاز اللہ ولد عبدالغفور عمر15سال دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب کرجاں بحق ہو گیا،اس کی لاش ابھی تک لاپتہ ہے،اعجاز اللہ ارسون نگر کا رہائشی ہے، جو شاہی قلعہ کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ نہانے کیلئے دریائے چترال پر گیا اور اسی دوران ڈوب کر لاپتہ ہو گیا،بتایا جاتا ہے کہ دریا چترال، دریائے کابل کے ساتھ ملتا ہے اور اعجاز اللہ کے والدین نے اپیل کی ہے کہ اگر انکے بچے کی نعش بہتے ہوئے افغانستان کی بحری حدود میں چلے جائے تو اسے ارسون نگر میں ان کے گھر پہنچا دیں،دوسری جانب عوام کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ دریائے چترال کے گردحفاظتی دیوار تعمیر کی جائے تا کہ دریائے چترال کی طرف عام آدمی یا کوئی بچہ نہانے کیلئے نہ جائے،حفاظتی دیوار نہ ہونے کی وجہ سے اکثر گاڑیاں دریا میں گر کر لاپتہ ہو گئی ہیں،حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس دریا کے گرد حفاظتی باڑ یا دیوار قائم کی جائے اور اس دریا میں نہانے پر دفعہ 144نافذ کر کے پابندی لگائی جائے تا کہ لوگ اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کا ضیاع ہونے سے بچ جائیں۔

متعلقہ عنوان :