کراچی، ہماری حکومت 2008 ء میں آئی تھی تو اپنے پہلے ہی بجٹ میں شہید بے نظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا،سید مراد علی شاہ

2008 سے لے کر اب تک اس نے 9 مرحلے ہوچکے ہیں اور ہم نے اس کو صرف پروگرام تک محدود نہیں رکھابلکہ عملی طورپر اس پروگرام عمل درآمد کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں بچے اور بچیوں کو فنی تربیت سے آراستہ کیا،وزیر اعلیٰ سندھ کا تقریب سے خطاب

پیر اپریل 23:54

کراچی، ہماری حکومت 2008 ء میں آئی تھی تو  اپنے پہلے ہی بجٹ میں شہید بے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت 2008 ء میں آئی تھی تو پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں شہید بے نظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا اور 2008 سے لے کر اب تک اس نے 9 مرحلے ہوچکے ہیں اور ہم نے اس کو صرف پروگرام تک محدود نہیں رکھابلکہ عملی طورپر اس پروگرام عمل درآمد کرتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں بچے اور بچیوں کو فنی تربیت سے آراستہ کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بات نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن کے زیر اہتمام پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیرا علیٰ سندھ نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا تو وہ تعمیری کاموں کے بجائے ادھر ادھر کے کاموں میں لگ جائیں گے اور اسی چیز کو دیکھتے ہوئے ہم نے 2013 میں قانون سازی کی اور اسمبلی سے ایک قانون پاس کیا اور شہید بے نظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ بورڈ قائم کیاگیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2008 سے لے کر اب تک تقریباً سوا 3 لاکھ بچے اور بچیاں اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرچکے ہیں اور انہیں 90 مختلف شعبوں میں تربیت دی جارہی ہے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم اس پروگرام کو اور آگے بڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والوں کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ اسے سرکاری نوکری مل جائے مگر حکومت اتنی زیادہ ملازمتیں نہیں دے سکتی اگر سب لوگ کلرک یا ایڈمنسٹریشن میں چلے جائیں گے تو ٹیکنیکل شعبے کو کون دیکھے گا۔

وزیر اعلیٰ سند ھ نے کہا کہ فنی تربیت حاصل کرنے والے بچے اور بچیاں ہی اصل میں ہمارے قوم کے معمار ہیں اور انہوں نے ہی قوم کو بنانا ہے اسی لیے ان پر خاص توجہ دینی ہے۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک مائننگ کمپنی بنائی اور اس کے تحت ایک پاور پلانٹ بھی بن رہا ہے اور وہاں پر فنی لیبر اور تیکنیکی افراد اور انجینئرز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں 70 فیصد ملازمتیں مقامی باشندوں کو دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چائینیز کمپنی جو وہاں کام کررہی ہیں ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیاگیا ہے کہ ہر چائینیز 5 مقامی افراد کو لے کر انہیں تربیت دیتا ہے، تھر کے رہنے والے لوگوں کو پوری طرح سے سندھی بھی نہیں بول سکتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی ایک مختلف زبان ہے اور وہاں پر جو چائینیز آتے ہیں اٴْن کو بھی انگریزی کا ایک لفظ نہیں آتا لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کو سمجھارہے ہوتے ہیں اور مل کرکام کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے آج ایک لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ لے رہے ہیں جو کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی تنخواہ سے زیادہ ہے۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آپ اپنے آپ میں اعتماد پیدا کریں گے تو آپ بہت ترقی کریں گے اور آپ کبھی بھی منفی سوچ نہ رکھیں۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسے ملک سے نوازا ہے جو کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے نیک ٹیک کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے مجھے اس تقریب میں مدعو کیا۔انہوں نے کہا کہ 2008 سے سندھ حکومت نے اسکل ڈیولپمنٹ کا جو پروگرام شروع کیاہے اس کے لیے ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہاں پر 24 ہزار افراد کو ہر سال تربیت فراہم کی جاتی ہے اور ان 24 ہزار افراد میں سے 3 ریجن کراچی ، حیدرآباد اور سکھر کے لوگوں میں پہلے ایک مقابلہ کرایا گیا اور پھر وہاں سے جو کامیاب ہوئے اٴْن کو یہاں مقابلے کے لیے لایا گیا ہے۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے تقریب میں کامیاب طلباء و طالبات میں انعامات بھی تقسیم کیے۔#