شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہورہی،ترجمان دفتر خارجہ

معاملہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے،افغان مہاجرین کی موجودگی دہشتگردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں، پاکستان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ او آئی سی رابطہ گروپ میں اٹھایا ،افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشتگردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، بھارتی قیدی جیتندر کو خون کی بیماری ہے، اس کا ذہنی توازن تھوڑا خراب ہے، عموماً بھارت بھی ہمارے قیدیوں کو واپس بھیج دیتا ہے، پاک بھارت سفارت کاروں کی ہراسگی کامعاملہ دونوں ممالک کے دفتر خارجہ نے مل کر حل کیا، اس معاملے میں بیک ڈور چینلز کا کوئی کردار نہیں ہے، وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات مئی 17:39

شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہورہی،ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی ڈیل کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ شکیل آفریدی کا معاملہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے، افغان مہاجرین کی موجودگی دہشتگردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں، پاکستان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ او آئی سی رابطہ گروپ میں اٹھایا ،افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشتگردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، بھارتی قیدی جیتندر کو خون کی بیماری ہے، اس کا ذہنی توازن تھوڑا خراب ہے، عموما بھارت بھی ہمارے قیدیوں کو واپس بھیج دیتا ہے، پاک بھارت سفارت کاروں کی ہراسگی کامعاملہ دونوں ممالک کے دفتر خارجہ نے مل کر حل کیا، اس معاملے میں بیک ڈور چینلز کا کوئی کردار نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہیجمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہورہی، جب ڈیل نہیں کی جا رہی تو حسین حقانی کے ساتھ تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ معاملہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے۔

فغان مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ دہراتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان اپنے حصے کا کام بارڈر مینجمنٹ کا نظام وضع کرکے کر رہا ہے، افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشتگردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، پاک افغان بارڈر پر نقل و حرکت دہشت گردوں کو بھی مواقع فراہم کرتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے بارے میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، بھارت نے رواں ہفتے مزید چار کشمیریوں کو شہید کیا، اپریل میں 760 کشمیری گولیوں اور پیلٹ سے زخمی کیے گئے، کشمیری قیادت کو مسلسل نظر بند رکھا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ او آئی سی رابطہ گروپ میں اٹھایا جب کہ سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

بھارتی قیدی جیتندر ارجن کی حوالگی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی قیدی جیتندر کو خون کی بیماری ہے اور اس کا ذہنی توازن بھی تھوڑا خراب ہے، عموما بھارت بھی ہمارے قیدیوں کو واپس بھیج دیتا ہے، ہماری جانب سے قیدیوں کی رہائی 1400 برس پرانی اسلامی روایات کی عکاس ہے۔ھارت کے ساتھ پس پردہ رابطوں کے حوالے سے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاک بھارت سفارت کاروں کی ہراسگی کامعاملہ دونوں ممالک کے دفتر خارجہ نے مل کر حل کیا، اس معاملے میں بیک ڈور چینلز کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے۔ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تمام بنیادی حقوق دینے کے لیے کام ہورہا ہے، توقع ہے اصلاحات کا عمل موجودہ حکومت کے دورمیں ہی مکمل ہوجائے گا۔