بجلی کی بندش سے پریشان سبزی اور فروٹ منڈی کی انتظامیہ نے بجلی بحال نہ ہونے کی صورت میں یکم رمضان المبارک کوہڑتال کی دھمکی دے دی

6ماہ سے بجلی کاٹی ہوئی ہے،کے الیکٹرک نے معاہدہ کیا تھا کہ ایک ماہ میں بجلی کے میٹر لگائیں گے تاہم 4 ماہ گزر گئے اب تک میٹر نہیں لگے، انتظامیہ سبزی منڈی کمشنر کراچی کا اطلاع کرچکے ہیں کہ فروٹ اور سبزی منڈی کے تاجروں کے مطالبات نہ مانے گئے تو یکم رمضان المبارک کو سبزی منڈی بند کردیں گے، آصف احمد

جمعرات مئی 23:11

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) بجلی کی بندش سے پریشان سبزی اور فروٹ منڈی کی انتظامیہ نے بجلی بحال نہ ہونے کی صورت میں یکم رمضان المبارک کوہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ کے الیکٹرک نے 6 ماہ سے بجلی کاٹی ہوئی ہے۔۔کے الیکٹرک نے معاہدہ کیا تھا کہ ایک ماہ میں بجلی کے میٹر لگائیں گے تاہم 4 ماہ گزر گئے اب تک میٹر نہیں لگے، ہم 16 ماہ قبل کے الیکٹرک کو 9 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کرچکے ہیں۔

مارکیٹ کمیٹی کے وائس چیئر مین آصف احمد نے کہا کہ کمشنر کراچی کا اطلاع کرچکے ہیں کہ فروٹ اور سبزی منڈی کے تاجروں کے مطالبات نہ مانے گئے تو یکم رمضان المبارک کو سبزی منڈی بند کردیں گے۔انہوں نے بتایا کہ 6ماہ سے سبزی وفروٹ منڈی بجلی بحال نہ ہوسکی جس کے باعث تجارتی سرگر میاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔

(جاری ہے)

سبزی وفروٹ منڈی کے تاجروں پر بجلی کے بل کے 25 کروڑ روپے کے واجبات ہیں ،،کے الیکٹرک کا موقف ہے کہ 50 فیصدادائیگی کردی جائے تو بجلی بحال کردی جائے گی ، اس سلسلے میں تاجروں اور کے الیکٹرک کے درمیان کئی مذاکرات ہوئے ہوئے، مارکیٹ کمیٹی کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی تاجروں کا انفرادی مسئلہ ہے کیونکہ بجلی استعمال کرتے ہیں تو بل بھی ادا کریں ، 25 کروڑ روپے کی ذمہ داری مارکیٹ کمیٹی پر نہیں ہے،انہوں نے بتایا کہ منڈی کو کنڈوں سے پاک کیا جائے اور میٹر لگائے جائیں۔

دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن نے کراچی سبزی منڈی کی دکانوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ، انٹری فیس کے فنڈز میں بھاری خوردبرد کی تحقیقات شروع کردی ہیں، محکمہ اینٹی کرپشن نے مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں مکمل ریکارڈ سمیت انکوائری میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، سبزی منڈی کے ذرائع کے مطابق منڈی کے ترقیاتی فنڈ کے علاوہ پھل اور سبزیاں لے کر آنے والی گاڑیوں کی داخلہ فیس میں بھاری مالیت کی خوردبرد ، دکانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹس سمیت فلور ملوں سے کروڑوں روپے مالیت کی ریکوری میں بدعنوانی کے الزمات کی تحقیقات کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن نے بڑے پیمانے پر انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق منڈی سے وصول کردہ پوری رقم کمیٹی کے اکاونٹس میں جمع نہیں کرائی گئی ، مارکیٹ کمیٹی کے 13سرکلز سے حاصل ہونے والی آمدن بھی خوردبرد کی نذر ہوتی رہی، اسی طرح عوامی سہولت کے لیے منڈی میں قائم بیت الخلا سے حاصل آمدن کا سرے سے کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا، محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کو جاری کردہ نوٹس میں 2015سے اب تک 13سرکلز سے حاصل ہونے والی آمدنی ، بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی تفصیلات اور سبزی منڈی کے داخلی راستوں پر انٹری فیس کی وصولی اور ملازمین کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، نوٹس میں مارکیٹ کمیٹی کے تمام ملازمین ان کے فرائض کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں ،محکمہ اینٹی کرپشن نے مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے دکانوں اورکینٹین کی الاٹ منٹ کا تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے جبکہ فلور ملوں پر 25کروڑ روپے کے واجبات کی تفصیلات سمیت کسی قسم کی رعایت کی فراہمی کے قانونی جواز اور تفصیلات بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،مارکیٹ کمیٹی کے وائس چیئر مین آصف احمد نے محکمہ انیٹی کرپشن کی جانب سے کارروائی کرنے کی تصدیق کی ہے ، انہوں نے بتایا کہ منڈی میں مارکیٹ کمیٹی کے 8 سرکاری باتھ روم ہیں جو 20 لاکھ روپے ماہانہ کے ٹھیکے پر ہیں لیکن دوسال سے یہ رقم مارکیٹ کمیٹی کے اکائونٹ میں جمع نہیں ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کمیٹی کے عملے کی ملی بھگت کے باعث منڈی میں جگہ جگہ کچرڈھیر لگے ہوئے ہیں ،جبکہ مارکیٹ کمیٹی نے کچرا اٹھانے کا 10 لاکھ روپے پر ٹھیکہ دیا ہوا ہے، مارکیٹ کمیٹی کا عملہ کچرا نہ اٹھانے والوں سے ملا ہوا ہے جن کے خلاف کارروائی کررہے ہیں ۔