2017-18 میں 365کلو میٹر قومی شاہرات 842ارب سے بنا ئی گئیں ،سینیٹر نصیب اللہ بارزئی

00کلو میٹر میں سے ایک کلو میٹر بھی بلوچستان کیلئے نہیں نہ ہی بلوچستان میں کوئی موٹروے ہے، ساری موٹروے پنجاب اور کے پی کے میں بنائی گئی ہیں، ہم غریب لوگ ہیں، ہم رہ جائیں گے، ڈیرہ غازی خان سے کوئٹہ تک کہا جا رہا ہے لیکن عملی کام نہیں ہوا سینیٹر نصیب اللہ بارزئی کا بجٹ سیشن میں اظہار خیال

جمعہ مئی 18:39

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سینیٹر نصیب اللہ بارزئی نے بجٹ سیشن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 2017-18 میں 365کلو میٹر قومی شاہرات 842ارب سے بنائے گئے ، ان 1700کلو میٹر میں سے ایک کلو میٹر بلوچستان کیلئے نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان میں کوئی موٹروے ہے، ساری موٹروے پنجاب اور کے پی کے میں بنائی گئی ہیں، ہم غریب لوگ ہیں، ہم رہ جائیں گے، ڈیرہ غازی خان سے کوئٹہ تک کہا جا رہا ہے لیکن عملی کام نہیں ہوا، نام بلوچستان کا ہے لیکن عملاً کام نہیں ہورہا، موٹروے بننا چاہئیں لیکن تمام صوبوں میں ہم ترقی کے مخالف نہیں، فاٹا سمیت کئی لوگوں میں دہشت گرد اس لئے بن رہے ہیں کہ انہیں جائز حق نہیں دیا جاتا، پھر اپنی ہی فورس ان پر چڑھا دی جاتی ہے، سوئی سدرن 80ارب روپے حکومت کو ریونیو دیتے ہیں، بلوچستان خود 70فیصد گیس سے محروم ہے، حکومت کہتی ہے 12ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں ڈالی ہے جبکہ بلوچستان میں بدترین لوڈشیڈنگ ہے، کوئٹہ میں 12سے 14گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے، حکومت کہتی ہے سو فیصد تعلیم دیں گے، داخلے ہوں گے، این ایف سی ایوارڈ آپ نہیں دے رہے، ہائر ایجوکیشن میں سے بلوچستان کی سیٹیں غائب کی جا رہی ہیں، کوئٹہ میں بارہ سالوں سے پانی کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، نصیر آباد میں جانور اور انسان ایک جگہ پانی پیتے ہیں، اگر حکومتوں کا یہی رویہ رہا تو مضبوط پاکستان کا خواب کیسے دیکھیں گے، پالیسیاں چند شہروں کیلئے ہیں، موٹروے بھی چند شہروں کیلئے ہیں، کوئٹہ میں گیس نہیں ہے، ایسے بجٹ بنائے جائیں جس سے تمام صوبوں کو یکساں حقوق دیئے جائیں، تین وزیر اعلیٰ ناراض ہو کر این ایف سی ایوارڈ پر واک آئوٹ کر جاتے ہیں۔