ْقائداعظم یونیورسٹی پروفیسرز،طلبائ ، فارغ تحصیل قائدین اور سول سوسائٹی نمائندوں کا احتجاج

یونیورسٹی میں عبدالسلام سینٹر فار فزکس کے نام کی تبدیلی کی پارلیمانی قرارداد کو مسترد کر دیا قرارداد آئین پاکستان سے متصادم،متعصبانہ اور پاکستان کی بین الاقوامی پاسداریوں کے خلاف قرار

جمعہ مئی 22:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرز،طلبائ ، فارغ تحصیل قائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے قائد اعظم یونیورسٹی میں عبدالسلام سینٹر فار فزکس کے نام کی تبدیلیکی پارلیمانی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے مظاہرین نے پارلیمان کی اس قرارداد کو آئین پاکستان سے متصادم،متعصبانہ اور پاکستان کی بین الاقوامی پاسداریوں کے خلاف قرار دیا ہے۔

حکومت قائد اعظم یونیورسٹی میں ڈاکٹر عبدالسلا م سینٹر فار فزکس کو چودہیوں صدی کے ایک سائنسدان ابو فتح عبدالرحمن منصور الخزینی کے نام سے تبدیل کرنا چاہ رہی ہے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ہود بھائی نے کہا کہ ہم عبدالسلام سینٹر فار فزکس کے نام کی تبدیلی کی کوشش شدید مذمت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام وہ واحد پاکستانی تھے جنہیں سائنس کے میدان میں نوبل انعام سے نوازاگیا۔

پوری دنیا انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ان کے نام پر اٹلی میں فزکس کا ایک بہت بڑا سینٹر کام کر رہا ہے۔کئی بین الاقوامی اسکالر شپ ان کے نام سے ایوارڈ کیے جاتے ہیں۔پاکستانی طلبابھی ڈاکٹر عبدالسلام اسکالر شپ پر تعلیم حا صل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم اپنے اس عظیم سپوت کو دھتکار رہے ہیں لیکن دنیا اس کی عظمت کو تسلیم کرتی ہے۔انہوں نے کہا انکا نام مٹانے والے مٹ جائیں گے لیکن ڈاکٹر عبدالسلام کا نام پھر بھی زندہ رہے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نئیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سینٹر کا نام سابقہ وزیر اعظم کی ہدایت پر صدارتی حکم نامے سے منظور کیا گیا تھا۔اس صدارتی حکم نامے پر عمل نہ ہونا اس بات کی عکاسی کر تا ہے کہ ہمارے نمائندوں کے اقدامات کی کوئی قدر نہیں۔انہوں نے کہا بظاہر یہ لگتا ہے کہ تحریک لبیک کے دھرنے کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے یہ شرط تسلیم کی کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب تمام عمارتوں کے نام تبدیل کر دیے جائیں گے۔

سول سوسائٹی کے نمائندے سرور باری نے کہا کہ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے عبدالسلا م سینٹر فار فزکس کا نام رکھنے کا حکم دیا تھا لیکن اس پر عمل در آمد نہ ہو ا۔اب ان کے داماد نے اسمبلی میں قرار داد پیش کی تو اسے فوری طور پر تسلیم کر لیا گیا جس میں تمام پارٹیوں نے شرکت کی جو کے باعث شرم اور قابل مذمت ہے۔ڈاکٹر ساجد اعوان نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ قرارداد آئین پاکستان سے معتصادم ہے لہٰذا اسے فی الفور واپس لیا جائے۔

سابق طالب علم رانا ریاض سعید نے کہا کہ دسمبر 2016 میں وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر قائد اعظم یونیورسٹی کے چانسلر اور صدر پاکستان ممنون حسین نے حکم نامہ جاری کیاتھا کہ نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام تبدیل کر کے عبدالسلا م سینٹر فار فزکس رکھ دیا جائے۔ابھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا کہ سابقہ وزیر اعظم کے داماد نے اسمبلی میں وزیر اعظم کی سابقہ ہدایت کے خلاف قرار داد پیش کر دی اور جسے اسمبلی سے منظور بھی کروا لیا گیا۔

حکومت اگر کسی کو خوش کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے الگ سے نئے ادارے بنا لے۔انتھرو پالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹ حسرت طوری نے اس قرر داد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندگان کو پارلیمنٹ میں عوامی امنگوں کے خلاف قررار داد منظور نہیں کرنی چاہیے۔عوامی ورکر ز پارٹی کی مسز عالیہ نے اس قرارداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھا یا کہ عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے حکومت اس کی طرف توجہ دینے کی بجائے اس سینٹر کے نام کو قومی مسئلہ سمجھ رہی ہے۔ 5-18/--360