ْ چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حتمی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری

حتمی نوٹیفکیشن کے بعد 120دن کے بعد عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں

ہفتہ مئی 21:20

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حتمی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ قانون کے مطابق حتمی نوٹیفکیشن کے بعد 120دن کے بعد عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔اُدھر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی10مئی کے چکوال میں جلسہ عام کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔

ضلع کونسل چکوال اور میونسپل کمیٹی چکوال کے زیر اہتمام کرائے جانے والے میلہ جشن بہاراں میں مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز ایک دفعہ پھر تقسیم ہوگئے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں تین اراکین اسمبلی میجر طاہر اقبال ، سردار ممتاز ٹمن اور سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے پارٹی کے نامزد چیئرمین اور وائس چیئرمین کو مسترد کرتے ہوئے اپنے امیدوار میدان میں اتارے تھے اور حکومتی نامزد چیئرمین اور وائس چیئرمین سے شکست کھائی تھی۔

(جاری ہے)

مذکورہ جشن بہاراں نے دیگر پارلیمنٹرینز جن میں چوہدری سلطان حیدر علی، ملک شہریاراعوان،ملک سلیم اقبال اور سردار آفتاب اکبر نمایاں نظر آتے ہیں وہاں پر غیر محسوس طریقے سے ان باغی پارلیمنٹرینز نے اپنے آپ کو اس جشن بہاراں سے علیحدہ رکھا ہے۔ جشن بہاراں میں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او چکوال کی بھی بھرپور شرکت ہے۔ بہرحال دس مئی کا جلسہ ضلع چکوال کی مستقبل کی انتخابی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔

سردار غلام عباس گروپ کیلئے وزیراعظم میاں نواز شریف کا یہ جلسہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ پارلیمنٹرینز کی بھی سیاسی قوت کا اندازہ اسی جلسے سے ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف بھی بھرپور طریقے سے متحرک ہوچکی ہے، راجہ یاسر سرفراز جو کچھ عرصہ قبل اس الیکشن کے حوالے سے خاموش تماشائی کی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے اب وہ بھی پھر میدان میں اتر آئے ہیں اور آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

بہرحال میجر طاہر اقبال یا سردار غلام عباس دونوں میں سے ایک نے مسلم لیگ ن سے بہرحال فارغ ہونا ہے اور یہی وہ ایک نکتہ ہے جس پر پاکستان تحریک انصاف کا الیکشن بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر میجر طاہر اقبال اور سردار غلام عباس دونوں مسلم لیگ ن میں ایڈجسٹ ہوگئے تو پھر ان کو شکست دینا ناممکن ہوگا۔