ججز کی تعیناتی اور سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بدلنا ہوگا، نواز شریف

پیر مئی 14:33

ججز کی تعیناتی اور سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بدلنا ہوگا، نواز ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار کو درست کرنا ہوگا ، سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بھی بدلنا ہوگا،جب لوگوں کو ہزار ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے تو یہی ہوگا، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ہزار ہزار روپیہ کیوں دیا گیا، قوم اس ملک کی مالک ہے مزارع نہیں۔

پیر کو احتساب عدالت میں پیشی پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وزیرداخلہ پر حملہ معمولی بات نہیں، یہاں تک نوبت پہنچنا تشویشناک ہے، جب لوگوں کو ہزار ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے تو یہی ہوگا، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ہزار ہزار روپیہ کیوں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار درست کرنا ہوگا، سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بھی بدلنا ہوگا اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ اس ملک میں احتساب صرف سیاست دانوں کا ہوتا ہے تاہم الیکشن میں کامیابی کے بعد نیا نظام ضرور لائینگے، ہمارے لوگوں کو توڑنے کیلئے اپروچ کیا گیا تاہم ڈرانے، دھمکانے اور نیب میں کیسز چلانے کے باوجود مخلص لوگوں نے وفاداریاں نہیں بدلیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو مقدمہ چل رہا ہے کیا یہ میرے لیے پیغام نہیں،ہائیکورٹ کے جج نے متعلقہ سوال پوچھے مگر ان کا جواب نہیں آیا، جسٹس قاضی فائزعیسی کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیا گیا، یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم اس ملک کی مالک ہے مزارع نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت ہوچکا، 70 سال سے مزارع رہے اب مستقبل سنوارنا چاہیے، عوام کو احساس ہوچکا ہے کہ وہ مالک ہیں، اب فیصلہ بھی قوم کا ہوگا جب کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا۔ نواز شریف نے کہا کہ چوہدری نثار کی طبعیت ناساز تھی میں نے جا کر اعلان کیا تھا۔ احتساب کا عمل اب سب کے گرد چلے گا کیس کا فیصلہ ہونے دیں پھر نیب قانون دیکھیں گے۔ ان کے گواہ جھوٹے ثابت ہوئے۔ جو گواہ آیا کسی نے گواہی نہیں دی جنہوں نے لوٹ مار کی وہ آرام سے سو رہے ہیں میں 62 ویں مرتبہ عدالت میں پیش ہوا ہوں روز میرے متعلق خبر آتی ہے کہ اڈیالہ جیل کی صفائیاں ہورہی ہیں۔