این ٹی ایس ایک مال کمائو تنظیم بن چکی ہے‘ لوٹ مار کا نوٹس لیا جائے‘ الیاس مصطفوی ایڈووکیٹ

پیر مئی 17:47

سہنسہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) مرکزی مجلس عاملہ مسلم کانفرنس راجہ محمد الیاس مصطفوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ این ٹی ایس ایک مال کمائو تنظیم بن چکی ہے اور حکومتیں اس کی حواری بن چکی ہیں دونوں امیدواروں کو نوکری کے نام پر لوٹ رہے ہیں کبھی تو کوائف پورے نہ ہونے کے نام پر اور کبھی تعلیم حد بندی نہ کر نے کے نام پر فیسیں غبن کر رہے ہیں این ٹی ایس میں بھی بے شمار خامیاں ہیں حالیہ امتحانات میں بے شمار امیدواروں کو رولنمبر سلپس ہی جاری نہ کی گئی ہیں حلانکہ ان کے کاغذات اور فیس بروقت این ٹی ایس انتظامیہ کے پاس پہنچ چکے تھے جس سے این ٹی ایس کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں جن کو دو ر کر نا اور امید واروں کی دلجوئی و تشفی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ این ٹی ایس معمولی کوتاہی سے بے شمار امیدواروں کا تعلیمی حر ج ہوا اور محنت ضائع ہوگئی ۔

(جاری ہے)

اگر کوئی امیدوار این ٹی ایس انتظامیہ کی غلطی و کوتاہی اور غیر ذمہ دارانہ فعل کی وجہ سے شامل امتحان نہیں کیا جاسکتا تو اس کے ناقابل تلافی نقصان کا ازالہ کون کرئے گا ۔ حالیہ دنوں میں حکومت آزاد کشمیر کا پرائمری و جونئیر مع ڈپلومہ ہولڈر حامل اساتذہ کی جبری ریٹائر منٹ کا نوٹیفکیشن ایک قابل مذمت اور عوام دشمن قدم ہے کئی سالوں سے اسی قابلیت کے حامل اساتذہ بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے شاندار نتائج تاحال دے رہے ہیں ۔

کسی مقام پر ان اساتذہ کے کام میںسقم نظر نہیں آتا ۔ نہ جانے حکومت وقت کو بیروزگاری سے نوجوانوں کے نجات دلانے کے لیے ہزاروں لوگوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے کی نوبت کیوں محسوس کی ۔ حکومت اگر عوام دوستی میں اتنی ہی خالص ہے تو نئے ادارے بنا کر لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرسکتی ہے ۔ تعلیمی پیکج کی جملہ پانچ ہزار آسامیاں خالی ہیں حکومت ان آسامیوں کو پر کر کے عوام پراحسان عظیم کر سکتی ہے مگر راجہ فاروق حیدر میرٹ کی آڑ میں اساتذہ کو نوکر ی سے فارغ کر نے کے درپے ہیں حکومت اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے ایسی نامعقول اور عوام کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اگر ان اساتذہ میںنیا سلیبس پڑھانے کی اہلیت میںکمی بیشی ہے تو حکومت ان اساتذہ کو ریفریش کورسز اور جز وقتی ٹریننگ کا اہتمام کر سکتی ہے مگر بیک جنبش قلم قوم کے معماروں کو نوکری سے جزوی طور پر سبکدوش کر نا ایک ظالمانہ فعل ہے جب یہ اساتذہ کر ام بھرتی ہوئے تھے تو محکمانہ قواعد پر پورا اترتے تھے ۔

نئے قوانین کا ان پر اطلاق نہیں ہوسکتا ہے سروس ایکٹ کے مطابق ساٹھ سال عمر پوری کر نے کا قانونی و اخلاقی استحقاق رکھتے ہیں ۔ البتہ نئی ریکروٹمنٹ پالیسی میں اساتذہ کے بہتر تعلیمی کوالیفکیشن کے ساتھ ان کے سکیل بھی بہتر بنائے جانے چاہیے کسی بھی حکومت کا جبری ریٹائر منٹ کر نا انسانی حکوحقوق کی خلاف ورزی ہے آئے روز نئے احکامات جاری کر کے آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کو حکومت نے مفلوج کر رکھا ہے جس سے طلبا ء ، اساتذہ اور عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :