سپریم کورٹ نے خواجہ محمد آصف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی، فریقین کو نوٹس جاری

پیر مئی 22:16

سپریم کورٹ نے خواجہ محمد آصف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے نااہلی کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ نی خواجہ محمد آصف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔عدالتِ عظمی میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خواجہ آصف کی نااہلی فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی اور فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس میں تحریری جواب جمع کروائیں۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ آصف کی نااہلی 3 نکات پر ہوئی جس پر خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ دبئی کے نجی بینک میں خواجہ آصف کے اکا ئونٹ میں کبھی کوئی ترسیل نہیں ہوئی بلکہ یہ اکائونٹ 7 جولائی 2015 میں بند کردیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی میں خواجہ آصف سے 3 سال کے انکم ٹیکس کی ادائیگی کا پوچھا گیا تھا جس میں انہوں نے اس حوالے سے ٹیکس گوشوارے منسلک کر دیئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 2012 کے گوشواروں میں تنخواہ کا بھی ذکر ہے، جبکہ 68 لاکھ 20 ہزار روپے غیر ملکی زرِمبادلہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ان کے موکل کے خلاف انتخابی عذرداری درخواست میں غیر ملکی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا جبکہ 2013 میں خواجہ آصف کے خلاف پٹیشن میں تنخواہ کو دفاع کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔خواجہ آصف کے وکیل نے کہا اکاونٹ ظاہر کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹی کی جانب سے نااہلی فیصلہ اثاثوں کی بنیاد پر آیا، جبکہ ریاست کے کسی ادارے میں کرپشن یا پھر آف شور کمپنی رکھنے کا الزام نہیں ہے۔

اس موقع پر خواجہ آصف نااہلی کیس کے درخواست گزار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے وکیل بشیر مہمند نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کئے۔۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔