سپریم کورٹ کے سینیر جج جسٹس اعجازافضل خان ریٹائر ہوگئے

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مقدمے پانامہ کیس سمیت اہم مقدمات سنے

پیر مئی 22:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ کے سینیر جج جسٹس اعجازافضل خان ریٹائر ہوگئے ہیں ،انہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مقدمے پانامہ کیس سمیت اہم مقدمات سنے۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز افضل خان 1953 میں مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔1974 میں بی اے کیا۔1977 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔اسی سال بطور وکیل کیریئر کاآغاز کیا۔

1999 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

(جاری ہے)

2000 میں پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج کی حیثیت سے تعینات ہوئے، 9 سال بعد چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بنے، مشرف دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا، جسٹس اعجازافضل خان 17نومبر2011 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے، بحیثیت سپریم کورٹ کے جج انہون نے کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنائے، وہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑے سیاسی مقدمے پانامہ سکینڈل کیس سننے والے بینچ کا حصہ بھی رہے، جسٹس اعجاز افضل نے بھی پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی، پھر وہ پانامہ کیس عملدرآمد بینچ کے سربراہ بنے، جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے بھی نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنایا، انہوں نے شریف خاندان کی متفرق درخواستیں اور تصویر لیک کرنے کے معاملے کو بھی سنا، جسٹس اعجاز افضل خان نے مسلم لیگ ن کے سینیٹرنہال ہاشمی پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کی تھی ، طلال چوہدری کا کیس بھی انہی کے بینچ میں لگا ہے لیکن اب ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بینچ تبدیل ہوجائیگا۔