اگر کسی کو ترقی دیکھنی ہے تو میرے ساتھ سندھ چلے، خورشید شاہ

دیکھے کہ غریبوں کو کیسے تعلیم اور صحت دی جاتی ہے،کیسے لاکھوں کی سرجری مفت ہوتی ہے، یہ ہوتی ہے ترقی، شرم کرو حیا کرو کچھ تو کرو،سی پیک خیبرپختونخوا ، سندھ اور بلوچستان سے بھی گزر رہا ہے لیکن کام صرف پنجاب میں ہو رہاہے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا چکدرہ میں عوامی اجتماع سے خطاب

بدھ مئی 19:42

اگر کسی کو ترقی دیکھنی ہے تو میرے ساتھ سندھ چلے، خورشید شاہ
لوئر دیر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر کسی نے ترقی دیکھنی ہے تو میرے ساتھ سندھ چلے اور دیکھے کہ غریبوں کو کیسے تعلیم اور صحت دی جاتی ہے،کیسے لاکھوں کی سرجری مفت ہوتی ہے، یہ ہوتی ہے ترقی، شرم کرو حیا کرو کچھ تو کرو،،سی پیک خیبرپختونخوا ، سندھ اور بلوچستان سے بھی گزر رہا ہے لیکن کام صرف پنجاب میں ہو رہاہے۔

بدھ کو خیبرپختونخوا کے ضلع لوئردیر کے علاقے چکدرہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ غریبوں کی عزت و آبرو میں اضافہ ہو، ہم نے صوبوں کو اختیار دیا اور صوبوں کے فنڈز بڑھانے کے ساتھ وفاق کے فنڈز کم کیے۔۔خورشید شاہ نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے، کیا لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی، 12 گھنٹے آج بھی لوڈشیڈنگ ہے، ہاں حکمرانوں کے گھروں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ترقی دیکھنی ہے تو سندھ چلو جہاں تعلیم اور صحت دی جاتی ہے، کیسے لاکھوں کی سرجری مفت ہوتی ہے، یہ ہوتی ہے ترقی، شرم کرو حیا کرو کچھ تو کرو۔انہوں نے کہا کہ آج غیر آئینی طریقے سے این ایف سی ایوارڈ نہیں ہورہا، جب تک صوبے مضبوط نہیں ہوں گے وفاق مضبوط نہیں ہوگا۔۔خورشید شاہ نے حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گیس کس صوبے کی ہے، سندھ کی ساری گیس پنجاب لے جاتے ہو، لے جا پنجاب بھی میرا ہے لیکن جہاں کی گیس ہے اسے بھی دی جائے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ چاہیے اور وہ بہت ضروری ہے لیکن اپنے عوام کے مفادات کے بدلے نہیں، سی پیک خیبرپختونخوا ، سندھ اور بلوچستان سے بھی گزر رہا ہے لیکن کام صرف پنجاب میں ہو رہاہے۔