جنوبی پنجاب محاذ کے پی ٹی آئی میں انضمام کے بعد مسلم لیگ ن کو ایک اور جھٹکا

حکومتی جماعت کے رہنما اور ایم این اے نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 11:17

جنوبی پنجاب محاذ کے پی ٹی آئی میں انضمام کے بعد مسلم لیگ ن کو ایک اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10 مئی 2018ء) : جنوبی پنجاب محاذ کے پی ٹی آئی میں انضمام کے بعد اب مسلم لیگ ن کو ایک اور جھٹکا پہنچا ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا عمر نذیر نے بھی پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، رانا عمر نذیر آج پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سے ملاقات کریں گےجس کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کریں گے، پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات فواد چودھری نے بھی ایم این اے رانا عمر نذیر کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا عمر نذیر کل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ رانا عمر نذیر نے2013ء کے انتخابات میں حلقہ این اے 99 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے ۔ خیال رہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ جاری ہے۔

سیاسی رہنما اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں، ملک کے اس سیاسی ماحول میں اب تک سب سے زیادہ وکٹیں پی ٹی آئی نے حاصل کی ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے بھی پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے پی ٹی آئی میں ضم ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

جس کا باقاعدہ اور حتمی اعلان آج ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ہوا کا رُخ عمران خان بنے ہوئے ہیں، یہ تمام وہ سیاسی رہنما ہیں جو الیکشن سے قبل ہوا کے رُخ کا تعین کرتے ہیں اور پھر اسی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے الیکشن جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں۔ گذشتہ کچھ ماہ میں پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن سمیت پیپلز پارٹی کی بھی کئی وکٹیں اُڑائی ہیں ۔ پیپلز پارٹی میں سے جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ان میں فردوس عاشق اعوان،، بابر اعوان اور ندیم افضل چن سہر فہرست ہیں، جبکہ ن لیگ کے بھی بھی کئی رہنما حکومتی جماعت کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔