اگر سزا ہوئی تو معافی یا رحم کی اپیل کروں گا یا نہیں ۔

سزاہوئی تومعافی مانگوں گا،نہ ہی رحم کی اپیل کروں گا،نوازشریف کسی کےپاس معافی یا اپیل کیلئےنہیں جاؤںگا،کہاجارہا ہےکہ میری سزا صدرمملکت معاف کردیں گے۔قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 15:47

اگر سزا ہوئی تو معافی یا رحم کی اپیل کروں گا یا نہیں ۔
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10مئی 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ مجھے سزا دی گئی تونہ ہی معافی مانگوں گااور نہ ہی رحم کی اپیل کروں گا۔کسی کے پاس معافی یا اپیل کیلئے نہیں جاؤں گا،کہاجارہا ہے کہ میری سزا صدرمملکت معاف کردیں گے،،چیئرمین نیب 24گھنٹے میں شواہد سامنے لائیں،شواہد نہ لاسکے تو قوم سے معافی مانگیں اور فوری استعفا دے کرگھر چلے جائیں۔

انہوں نے آج یہاں چیئرمین نیب کے الزامات کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ نیب کی غیرجانبداری کی جانب اشارہ کرتا رہا ہوں۔۔چیئرمین نیب کی پریس ریلیز نے میری باتوں کی توثیق کردی ہے۔ثابت ہوتا ہے کہ ایک ادارے نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کومیرے خلاف استعمال کیا۔ایک اردو اخبار میں چھپنے والے غیرمعروف کالم کواتنی سنگین الزام تراشی کا جواز بنالیا۔

(جاری ہے)

8مئی 2018ء کو نیب نے الزام لگا دیا۔ الزام کی نوعیت اتنی شرم ناک ہے اور سنگین ہے کہ اس کونظرانداز کرنا پاکستانی جمہوری نظام کوخطرے میں ڈالنا ہے۔تین بار کے وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے 5ارب ڈالرز کی رقم بھارت بھیجی گئی ۔رقم سے بھارت کے زرمبادلہ کوطاقتور اور پاکستان کے زرمبادلہ کو کمزور کیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کے نام پرقائم ادارہ میرے خلاف من گھڑت الزامات کا مورچہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں سرے سے میرے نام بھی نہیں تھا میرے کسی بچے کا بھی نام نہیں تھا۔لیکن پھر جے آئی ٹی سے شروع کہانی سب کومعلو م ہے۔ہیروں پربنائی گئی جے آئی ٹی میرے خلاف کرپشن نہ ڈھونڈ سکی۔مجھے اقامہ پرنااہل کردیا گیا۔۔پاناما سے شروع کہانی پر9مہینے ہوگئے تماشا ہوا۔70کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں جوپاکستانی تاریخ کا ریکارڈ ہے۔

اب کوشش کی کی جارہی ہے کہ کوئی نہ کوئی نیا کیس بنا کرمجھے سزا دی جائے۔یہ بھی اسی ڈرامے کی دوسری قسط ہے۔ نیب کو نہیں معلوم کہ دوسال پہلے ورلڈبینک اور اسٹیٹ بینک نے بھی تردید کردی تھی۔اس سب کے باوجود ایک غیرمعروف کالم میں میرانام بھارت سے منسوب کرنا ،ثابت ہوچکا کہ یہ اداری اور چیئرمین کریڈیبلٹی سے محروم ہوچکے ہیں۔میری کرادر کشی نہیں بلکہ قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچایا ۔

انہوں نے کہاکہ چیئرمین بتائیں گے ؟ کہ چارمہینے بعد کس نے کالم یاد کروایا، اسٹیٹ بینک اور ورلڈ بینک سے تصدیق کی۔ رات کیوں پریس ریلیز جاری کرنا یاد آیا۔انہوں نے کہاکہ نیب اور چیئرمن نی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔۔چیئرمین نیب شواہد نہ لاسکے تواستعفا دے کرفوری گھر چلے جائیں۔چیئرمین قوم سے معافی مانگیں اور منصب پررہنے کا جواز کھو چکے ہیں ،فوری استعفا دے کرگھر چلے جائیں۔

نیب کی 90فیصد کاروائیاں میرے اور میری جماعت کیخلاف گھوم رہی ہیں۔یہ پری پول دھاندلی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ جوپی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں ان کومیں بھی جانتا کہ وہ کون ہیں۔عوام اب بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ہمارے ایم پی ایز کوکہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن نہ چھوڑی تومقدمات کیلئے تیار ہوجاؤ۔پارٹیاں تبدیل کرنے والوں پرکون دباؤ ڈال رہا ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ خلائی مخلوق نظر نہیں آتی، خلائی مخلوق ہے اور 70سالوں سے ہے ۔اب اس خلائی مخلوق کا مقابلہ زمینی مخلوق دے ہونے والا ہے۔انشاء اللہ زمینی مخلوق خلائی مخلوق کوشکست دے گی۔انہوں نے ایک سوال پرکہاکہ میرے بارے میں کہا جا رہاہے کہ اگر مجھے سزا سنائی گئی توصدرمملکت اس سزا کومعاف کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ واضح کرنا چاہتاہوں کہ مجھے سزا دی گئی تونہ ہی معافی مانگوں اور نہ ہی رحم کی اپیل کروں گا۔کسی کے پاس معافی یا اپیل کیلئے نہیں جاؤں گا۔