بے نظیر کا قتل ایک عظیم سانحہ،

قاتلوں کو چھوڑ دینے کے معاملے پر وزیر قانون سے بات کروں گا ، شیخ آفتاب

جمعرات مئی 16:30

بے نظیر کا قتل ایک عظیم سانحہ،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) قومی اسمبلی کو چیف وہیپ شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ بے نظیر کا قتل ایک عظیم سانحہ تھا وہ یقیناً ایک بڑی لیڈر تھیں۔ ان کے قاتلوں کو چھوڑ دینے کے معاملے پر وزیر قانون سے بات کروں گا اور دیکھوں گا کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت کیا کر سکتی ہے ۔ سندھ میں پانی کے بحران کے حوالے سے وزیر آبی وسائل ایوان کو اعتماد میں لیں گے ۔

’’چریاں چگ گئی کھیت‘‘ والی اپوزیشن لیڈر کی کہاوت آج سے چار ماہ پہلے بھی ہم نے سنی تھی ۔ پوری دنیا مین ایوانواں میں اختلاف رائے موجود ہوتا ہے ۔ وہاں تو جھگڑے بھی ہوتے ہیں جس کا سامنا آج تک یہاں میں دیکھنے میں نہیں آیا ۔ 31 مئی تک مدت پوری کر کے ہم الیکشن میں جا رہے ہیں امید ہے کہ حالات سازگار رہیں گے۔

(جاری ہے)

وزیر قانون چودھری محمود بشیر ورک نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ عدلیہ کے جو کام جو بہت پہلے ہو جانے چاہئے وہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے ۔

بے نظیر شہید کے قاتلوں کو چھوڑا جا رہا ہے ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ڈے بائی ڈے سماعتیں ہو رہی ہیں ۔ بی بی کے قتل سے ایک دن قبل میاں نواز شریف پر بھی حملہ ہوا لیکن اسکے باوجود میاں نواز شریف بی بی شہید پر حملے کے بعد خطرے کے باوجود ہسپتال پہنچے ۔ پاکستان کے خلاف ایک گھناؤنی سازش کھیل رہی ہے ۔ہمیں اس ایوان سے عدلیہ سمیت ادارون کو حدود میں رہ کر کام کرنے کا درس دینا ہو گا۔

جس کے لئے ہمیں بہتر ہونا ضروری ہے ۔ یہ عدلیہ ہو کوئی بھی اور ادارہ اسے اپنی حدود میں رہ کر صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی ۔ نہ کہ اپنے کام چھوڑ کر حکومتی انتظامی ذمہ داریوں میں مداخلت شروع کر سکیں جس سے نہ صرف ملک ترقی کے سفر سے محروم ہو سکتا ہے بلکہ جمہوریت کا شجر بھی ممنوع ہو رہا ہے ۔