پسند کی شادی کرنے والی لڑکی پر لواحقین کا دھاوا،

عدالت نے لڑکی کو خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی

جمعہ مئی 12:58

اوگی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اوگی میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی پر لواحقین نے عدالت میں دھاوا بول دیا، دوشیزہ کو زبردستی کچہری سے والدین اپنے ساتھ لے گئے، پولیس نے بازار میں دوشیزہ کو ان سے واپس چھڑوا لیا۔ لڑکی نے عدالت میں اغواء ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے نوجوان ممتاز کے ساتھ نکاح کیا ہے۔ بیان کے بعد عدالت نے دوشیزہ کو اس کے شریک حیات کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق چند روز گائوں بجنہ کی دوشیزہ لاپتہ ہوئی، لواحقین کی رپورٹ پر پولیس نے اغواء کا مقدمہ درج کیا۔ گذشتہ روز اچانک دوشیزہ کیس کے مرکزی ملزم ممتاز کے ہمراہ عدالت میں 164 کے بیان کیلئے کچہری پہنچی تو اس کے لواحقین کو پتہ چل گیا۔ وہ لڑکی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے مگر جب وہ بازار پہنچے تو اوگی پولیس نے جا کر دوشیزہ کو ان سے چھڑایا کر عدالت پہنچا دیا۔ چھ ملزمان میں سے پانچ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :