پاک افغان بہتر تعلقات خطے کے امن کے لئے لازمی ہیں ،سکندر حیات خان شیرپائو

ہفتہ مئی 22:46

پاک افغان بہتر تعلقات خطے کے امن کے لئے لازمی ہیں ،سکندر حیات خان شیرپائو
چارسدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو نے پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات کو خطے کے امن کے لئے لازمی ہیں ،ایک دوسرے پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے الزامات لگانے سے دونوں ملکوں کے درمیان مزید بد گمانیاں پیدا ہو گیںجس سے اس خطے کے امن کو مزید خطرہ ہے، موجودہ صوبائی حکومت نے عوام سے امید کی آخری کرن کے نام پر ووٹ لیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

وہ علاقہ صدر گڑھی میں گرلز مڈل سکول اور جناز گاہ کے افتتاح کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق ایم پی اے بابر علی خان اورضلعی کونسلر شاہد خان کتوزئی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب میں سکندر شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ پچھلی چار دہائیوں سے اس خطے میں جو آگ لگی ہے اس میں زیادہ تر نقصان پختونوں کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،،کابل میں ہونیوالے واقعات کا درد یہاں بھی محسو س کیا جاتا ہے اس لئے دونوں ملک دہشت گردی کے واقعات کے بعد ایک دوسرے پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے الزمات لگا کر مزید بد گمانیاں پیدا نہ کریں بلکہ دونوں ریاستوں کے حکمرانوں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرکے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف لڑیں کیونکہ دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے اور اس خطے کے امن سے وابستہ ہیں۔

(جاری ہے)

فاٹا انضمام کے حوالے سے حکومت کی جانب سے اب تک کئے گئے اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فاٹا پاکستان کا ایک اہم حصہ اور وہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہاں کے عوام پر انگریزوں کے زمانے کے قوانین لاگوں ہیں جس میں ان کو بولنے کی اجازت تک نہیں ،موجودہ مرکزی حکومت نے فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کی عرض سے جو کمیٹی بنائی تھی اس کے سفارشات سے ملک کے بعض مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاسی سکورنتگ بڑھانے کے لئے اختلاف کیا اس لیے ہم حکومت سے فاٹا کے فوری طور پر خیبر پختون خوا میں ادغام کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ 2008سے قبل عام انتخابات میں اس صوبے کے عوام سے مذہب کے نام پر 2008میں پختوں کے حقوق کے نام پر جبکہ 2013میں عوام سے تبدیلی اور امید کی آخری کرن کے نام پر ووٹ لیا گیا لیکن موجوہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے کیونکہ اس صوبائی حکومت نے اس صوبے کے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ سلندر شیر پاؤکا کہنا تھا کہ قومی وطن پارٹی تعلیم پر بھر پور توجہ دے رہی ہے ، اپنے دور حکومت میں ضلع چارسدہ میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کیئے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی کے سربراہ اپنے اوپر کرپشن الزامات کی تردید کرتے رہتے ہیں اسفندیار ولی عوام کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے ماں کے لگائے گئے الزامات کا جواب دے ۔ اے این پی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی کے معاون خصوصی معصوم شاہ نے کرپشن کی انتہا کر دی تھی اور جب نیب نے انکے خلاف کاروائی شروع کی تو پیلی بارگنگ کے تحت نیب کو پچیس کروڑ روپے ادا کیئے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی وطن پارٹی آئندہ الیکشن میں کارکردگی کی بنیاد پر کامیاب ہو گی۔