گزشتہ 8 سالوں میں حکومت سندھ نے کے ایم سی کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 63 ارب روپے ادا کرنے تھے لیکن صرف 29 ارب روپے دیئے، میئر کراچی

رب روپے کا شارٹ فال ہے، مالی سال 2016-17 میں آکٹرائے ضلع ٹیکس 12 ارب روپے بنتا ہے لیکن کے ایم سی کو صرف 95 کروڑ روپے دیئے گئے ،عوام کو دکھانے کیلئے لولی پاپ کے طور پر 43 کروڑ روپے کی گرانٹ دے دی گئی ، صحافی برادری کا مسائل کو اجاگر کرنے میں ایک مضبوط کردار ہے،صحافی کے ایم سی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، کراچی ایڈیٹرز کلب کے عہدیداران وممبران کے ساتھ ایک اجلاس

اتوار مئی 19:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ گزشتہ 8 سالوں میں حکومت سندھ نے کے ایم سی کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 63 ارب روپے ادا کرنے تھے لیکن صرف 29 ارب روپے دیئے گئے، جس کے باعث کے ایم سی کو 34 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، مالی سال 2016-17 میں آکٹرائے ضلع ٹیکس 12 ارب روپے بنتا ہے لیکن کے ایم سی کو صرف 95 کروڑ روپے دیئے گئے جبکہ عوام کو دکھانے کے لئے لولی پاپ کے طور پر 43 کروڑ روپے کی گرانٹ دے دی گئی ، صحافی برادری کا مسائل کو اجاگر کرنے میں ایک مضبوط کردار ہے وہ کے ایم سی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

(جاری ہے)

یہ بات میئر کراچی وسیم اختر نے فریئر ہال میں کراچی ایڈیٹرز کلب کے عہدیداران اور ممبران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ نے نمبرز گیمز میں سب کو اُلجھایا ہوا ہے اورچار چھ لوگ مزے کررہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ ہم نے مالی سال 2017-18 کے لئے 100 کے قریب اسکیمیں بنا کر دیں لیکن کراچی دشمنی میں ایک بھی اسکیم بجٹ میں شامل نہیں کی گئی، انہوں نے کہا کہ ایک ارب 22 کروڑ روپے کے ایم سی نے اپنے ذرائع سے جمع کئے جو تنخواہوں، اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی،فیومیگیشن، یوٹیلیٹی بلز اور پیٹرول کی مد میں خرچ کئے گئے، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں 2 کروڑ روپے تک کی اسکیمیں ہم مکمل کرسکتے ہیں اور مختلف علاقوں میں یہ اسکیمیں جاری ہیں جس سے شہریوں کو کافی حد تک ریلیف ملا ہے انہو ںنے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 2011 ء سے 473 اسکیمیں چل رہی تھی جنہیں اب ہم مکمل کررہے ہیں ہمیں صرف 4 ارب روپے 2016-17 میں حکومت سندھ نے دیئے ہیں جس سے ترقیاتی کاموں کو مکمل نہیں کیا جاسکتا میئر کراچی نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹرز کے دور میں کے ایم سی کے پونے دو ارب روپے کا الائیڈ بینک لمیٹڈ نے غبن کیا، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک کے گورنر سے ملاقاتیں کرکے انہیں بتاچکا ہوںلیکن اب عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن صرف کاغذوں تک محدود ہے اب تک مالیاتی کمیشن کی صرف ایک میٹنگ ہوئی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی حزب مخالف کی نمائندہ جماعت ہے وہ ہر صورت میں اچھے کام پر بھی شور مچانے کو ضروری سمجھتے ہیں مجھے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کا مکمل اعتماد حاصل ہے ہم ڈرنے والے نہیں خدمت کرنے والے لوگ ہیں، انہوں نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن ساری باتوں کا جواب ثابت ہونگے اور پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہونگے، انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی اسکیم وفاقی حکومت یا سندھ حکومت کو بھیجی جاتی ہے تو اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملتا اسی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کو کراچی میں روکا جارہا ہے ، اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے اجلاس میں موجود حاضرین کے سوالوں کے جوابات دیئے، کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشرمیر نے میئرکراچی کاشکریہ ادا کیا کہ انہوںنے کراچی ایڈیٹر کلب کے عہدیداروں اور ممبران کے سامنے اپنے کراچی کے مسائل پیش کئے اور انہیں وقت دیا، کلب کی جانب سے میئر کراچی کو اعزازی ممبر شپ کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔