خستہ حال پل گنجائش سے زیادہ افراد کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا ،ْ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے وادی نیلم واقعہ پر فوری رپورٹ طلب کرلی ،ْڈپٹی کمشنر نیلم اور ایس پی کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت معلوم حاصل کر نے کیلئے کنٹرول روم قائم ،ْ آرمی چیف ،ْ وزیر اعظم کا واقعہ پر افسوس کا اظہار

اتوار مئی 20:31

مظفر آباد /وادی نیلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے 40 سے زائد سیاح دریائے نیلم کے نالہ جاگراں میں جاگرے جن میں سے 6 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں ،ْ13 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے ،ْ دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اتوار کو مظفر آباد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے سیاح نالہ جاگراں میں گرگئے ،ْڈوبنے والے چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں سے 3 فیصل آباد کے نجی کالج کے طالب علم تھے ،ْاب تک 13 افراد کو زخمی حالت میں زندہ بچالیا گیا ہے آخری اطلاعات تک باقی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی اداروں کی کارروائیاں جاری تھیں تاہم دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کے مطابق پل پر خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد سیاح کھڑے تھے کہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کے بچنے کی امید بہت کم ہے ،ْ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ خستہ حال پل گنجائش سے زیادہ افراد کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا۔

نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل آباد ،ْلاہور اور سرگودھا سے ہے۔ دریا میں گرنے والے سیاحوں میں فیصل آباد کے نجی کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں جن میں سے 3 طالبعلموں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں ،ْ دو طالبات اور ایک طالبعلم کو زندہ بچالیا گیا ہے ،ْڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی شناخت شہزاد، عبدالرحمان، محمد ندیم، حماد اور معظم کے نام سے ہوئی ہے۔

جاں بحق افراد میں شہزاد اور عبدالرحمن کا تعلق فیصل آباد اور محمد ندیم کا تعلق اسلام آباد سے ہے ،ْ زخمیوں میں فیصل آباد سے 18 سالہ حمزہ، 19 سالہ عدیل، 21 سالہ ولید، 21 سالہ زبیر، 18 سالہ انعم اور ثنا منیر، ساہیوال سے 22 سالہ اقرا، 28 سالہ علینا، بورے والا سے 22 سالہ ابرار، جھنگ سے 18 سالہ لاریب شامل ہیں۔ زخمیوں میں فیصل آباد کے ولید اور زبیر کی حالت تشویشناک ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر نے وادی نیلم واقعہ پر فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نیلم اور ایس پی کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جائے۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ حادثے کی وجوہات اور بدانتظامی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ پاک آرمی بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل رہی۔

دوسری جانب فیصل آباد کالج کے ڈائریکٹر جنید سبحانی نے بتایا کہ کالج سے کل 69 لوگ گئے تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی غم سے نڈھال والدین نے کالج آکر معلومات حاصل کرنی شروع کردی ہیں۔انتظامیہ نے معلومات کے لیے فون نمبرز جاری کیے ہیں۔ ڈسٹرکٹ نیلم کے کنٹرول روم نمبر 05821935550 اور مظفر آباد ڈویثرن میں قائم کنٹرول روم نمبر 1582292 0097 پر مزید معلومات کیلئے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیلم حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوجی دستوں کو امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی ہدایت کی ہے۔ پاک فوج کے خصوصی ایس ایس جی غوطہ خوروں کی ٹیم سرچ آپریشن کیلئے پہنچ گئی،ْ 4 لاشوں اور 11 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شاہکوٹ سے مظفر آباد منتقل کردیا گیا ۔