حسن، حسین اورمریم نوازنے دوران تفتیش جے آئی ٹی کوجعلی دستاویزات پیش کیں گلف اسٹیل مل سے حاصل شدہ رقم کبھی جدہ، قطراوربرطانیہ نہیں پہنچی۔واجد ضیا

مل کی فروخت سے 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا، 1980 کے معاہدے کی نوٹرائزیشن ۔ سینٹرل بینک آف دبئی میں آہلی اسٹیل کی طرف سے طارق شفیع کو 12 ملین درہم کی ادائیگی کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں۔احتساب عدالت میں بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 14:02

حسن، حسین اورمریم نوازنے دوران تفتیش جے آئی ٹی کوجعلی دستاویزات پیش ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی۔2018ء) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز کی سماعت کی۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاﺅنٹ کی ٹرانزیکشنزکا اصل ریکارڈ نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیا اور انہوں نے نوازشریف کی طرف سے جاری چیکس بھی پیش کئے۔۔پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت کوبتایا کہ حسن، حسین اورمریم نوازنے دوران تفتیش جے آئی ٹی کوجعلی دستاویزات پیش کیں اورگلف اسٹیل مل سے حاصل شدہ رقم کبھی جدہ،، قطراوربرطانیہ نہیں پہنچی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ حسین نوازنے جے آئی ٹی کو بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم گلف اسٹیل مل کی مشینری 50 سے 60 ٹرکوں میں جدہ منتقل کی گئی، اس مشینری سے العزیزیہ اسٹیل قائم کی گئی۔گلف اسٹیل مل کی فروخت سے متعلق شریف خاندان کے دعوے کی تصدیق کے لئے جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کو خط لکھا، یو اے ای نے گلف اسٹیل ملز کے 25 فیصد شیئرزکی فروخت کا دعویٰ غلط قراردیا، اس کے علاوہ مل کی فروخت سے 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا، 1980 کے معاہدے کی نوٹرائزیشن کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

سینٹرل بینک آف دبئی میں بھی آہلی اسٹیل کی طرف سے طارق شفیع کو 12 ملین درہم کی ادائیگی کا ریکارڈ نہیں۔ یو اے ای نے بتایا 2001 اور2002 میں ٹرکوں کے ذریعے آہلی اسٹیل کی دوبئی سے جدہ کوئی اسکریپ مشینری نہیں بھجوائی گئی۔جے آئی ٹی کے سربراہ نے کہا کہ 87-1986 میں نوازشریف کے کزن طارق شفیع نے نیا بینک اکاﺅنٹ کھول کرمزید قرضہ لیا، 1986 میں نئے بینک اکاﺅنٹ کھولنے سے ظاہرہوتا ہے کہ تمام واجبات سیٹلڈ ہوئے، یو اے ای نے طارق شفیع کے ڈیفالٹ ہونے کے متعلق سزا کا حکم نامہ بھجوایا۔

واجد ضیا نے بتایا کہ دستاویزات کی روشنی میں جے آئی ٹی نتیجہ پر پہنچی کہ گلف اسٹیل مل سے حاصل شدہ رقم کبھی جدہ،، قطراوربرطانیہ نہیں پہنچی، حسن، حسین اورمریم نواز نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو جعلی دستاویزات پیش کیں، ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سمیت تمام بزنس کے فنڈزکیلئے پیش کی گئی دستاویزات جعلی نکلیں، اس کے علاوہ آہلی اسٹیل ملزکے اسکریپ کی تفصیل کا حسین نواز کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا، انہوں نے مشینری کی ٹرانسپورٹ سے متعلق غلط بیانی کی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاﺅنٹ کی ٹرانزکشنزکا اصل ریکارڈ نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیا اور انہوں نے نوازشریف کی طرف سے جاری چیکس بھی پیش کیے۔واجد ضیاءنے عدالت میں کہا کہ ظاہر کیا گیا تھا اسکریپ دو ٹرکوں میں گیا جبکہ حسین نواز نے جے آئی ٹی کوبتایا مشینری50سے 60 ٹرکوں پرمنتقل ہوئی۔ نوازشریف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ گواہ متن پڑھ رہا ہے جو قابل قبول شہادت نہیں ہے اور واجد ضیاءحسین نواز کے مبینہ بیان پر انحصار کر رہے ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایک بار پھراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کا یہ بیان اس کی رائے پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 9 مئی کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا۔۔عدالت عظمیٰ نے نوازشریف اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کوٹرائل مکمل کرنے کی تاریخ میں 9 جون تک کی توسیع کردی تھی۔