مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا خاموش تماشائی بنے رہنا انتہائی افسوسناک ہے، سردار مسعود خان

بدھ مئی 16:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں پر قتل و غارت گری، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی برادری اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی جانب سے خاموش تماشائی بنے رہنا انتہائی افسوسناک ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ گذشتہ کئی دنوں سے بھارتی قابض افواج نے نام نہاد سکیورٹی و سرچ آپریشن کے نام پر معصوم و نہتے کشمیریوں کو دن دیہاڑے شہید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غلط بیانی کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے تحت کارروائی کر رہا ہی جبکہ حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے ، بھارتی قابض افواج معصو م و غیر مسلح کشمیریوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں سر عام قتل کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کی سروسز کو بند کر رکھا ہے تاکہ مظلوم کشمیریوں کی آہ و بکاہ عالمی دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مظلوم و محکوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ایوانوں تک پہنچانا ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوں تو تارکین وطن کمیونٹی کشمیریوں کو حق خودارادیت دیئے جانے کے سلسلہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے تاہم مقبوضہ کشمیر کی موجودہ خوفناک صورتحال کا تقاضا ہے کہ تارکین وطن اپنے اندر اتحاد پیدا کرتے ہوئے مزید فعال طریقے سے اپنے مظلوم کشمیر بہن بھائیوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے اور انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیئے جانے کیلئے اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لائیں۔ دونوں رہنمائوں نے بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور اس کا سدباب کئے جانے کا مطالبہ کیا۔