مزدور فائرنگ سے ہلاکت از خود نوٹس کیس

سپریم کورٹ کا پولیس کو متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم پنجاب اور بلوچستان حکومت مرنے والوں کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ اور زخمیوں کوفی کس5 لاکھ روپے سیشن جج اوکاڑہ کے اکائونٹ میں جمع کرائیں، عدالت

جمعرات مئی 17:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) بلوچستان کے علاقہ خاران میں 6 مزدوروں کی فائرنگ میں ہلاکت ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اوکاڑہ پولیس کو متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی جمعرات کے روز جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس اعجاز الااحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان کے علاقہ خاران میں 6 مزدوروں کی فائرنگ میں ہلاکت ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو لواحقین کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ دہشتگردی ہوئی اسکے باوجود اپنے عزیزوں کو امن و امان سے دفن کیاہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں ، جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیاکہ آپکو دھمکیاں دے کون رہا ہی لواحقین نے جواب دیا کہ مقامی ٹھیکیدار دھمکیاں دے رہا ہے عدالت تحفظ فراہم کرے اور ابھی تک ہمیں کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی یہاں سب جھوٹ بولا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ خاموش ہوجائیں ہم آپکی ادائیگی کورٹ کے ذریعے کروائیں گے اس پر وکیل یو فون نے کہاکہ مرنے والے افراد کے لواحقین کو دس لاکھ روپے فی کس کے حساب سے دینگے مرنے والوں کے لواحقین کو 3 سال تک 20 ہزار روپے ماہانہ بھی دیا جائے گا۔ جسٹس عمر عطائ بندیال نے استفسارکیاکہ پنجاب نے متاثرہ خاندانوں کی امداد کابھی کچھ اعلان کیا ہی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایاکہ ہم نے سمری تیار کرلی ہے تقریبا دس لاکھ روپے فی کس کے حساب سے پنجاب گورنمنٹ دے گی، اس دوران بلوچستان حکومت نے امداد کے پیکج کی تفصیلات پر مشتمل عدالت میں جمع کروایاتو عدالت نے حکم دیا کہ گورنمنٹ بلوچستان مرنے والوں کے لواحقین کو دس لاکھ جبکہ 5 لاکھ فی کس زخمیوں کو ادا کریگی۔

بلوچستان اور پنجاب گورنمنٹ ڈسٹرکٹ سیشن جج اوکاڑہ کے پاس اکاو نٹ میں رقم جمع کروانے کی پابند ہوگی اور ڈسرکٹ سیشن جج اوکاڑہ لواحقین میں رقم تقسیم کرینگے عدالت نے اوکاڑہ پولیس کو متاثرہ فیملی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔