نقیب قتل کیس ، راو انوارسی آر او میں رجسٹرڈ نہ ہوسکے

سی آر او میں مقدمات کے تحت گرفتار ملزمان کی تصاویر، فنگر پرنٹس اور دیگر تفصیلات مشتمل کی جاتی ہیں

جمعہ مئی 17:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) نقیب قتل کیس کے 11 ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ مرتب، راو انوار کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں، پولیس حکام نے ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال دی۔نقیب محسود قتل کیس میں گرفتار ڈی ایس پی سمیت 11 ملزمان کو تو سندھ پولیس کے کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں رجسٹرڈ کرلیا گیا ہے لیکن سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار احمد کی سی آر او میں ابھی تک رجسٹریشن نہیں کی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق سندھ میں جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے کرمنل ریکارڈ آفس کا قیام 1964 میں عمل آیا لیکن باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کا عمل سال 1972 کے بعد شروع کیا گیا تھا۔سی آر او میں مقدمات کے تحت گرفتار ملزمان کی تصاویر، فنگر پرنٹس اور دیگر تفصیلات مشتمل کی جاتی ہیں پولیس ذرائع کے مطابق جیب تراشی جیسا معمولی جرم ہی کیوں نہ ہو کسی بھی الزام کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کسی بھی ملزم خواہ وہ سیاسی لیڈر، حکومتی عہدیدار، وزیر، مشیر یا سرکاری افسر ہی کیوں نہ ہو کو سی آر او میں شامل کیا جانا اہم قانونی تقاضا ہے۔

(جاری ہے)

راو انوار احمد کے معاملے میں پولیس نے ایسے تمام قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھا اور ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے سے گرفتار اس وی آئی پی ملزم کو ابھی تک کرمنل ریکارڈ آفس یا حال ہی میں سندھ پنجاب کے مشترکہ کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہے۔اسی مقدمے میں گرفتار ڈی ایس پی قمر احمد شیخ کو سی آر ایم ایس نمبر 60678 جاری کیا گیا ہے، اسی طرح سب انسپکٹر محمد یاسین کو 59279، اے ایس آئی سپرد حسین 59277، اللہ یار 59287، ہیڈ کانسٹیبلز شکیل فیروز 64797، خضر حیات 59279، محمد اقبال 59283، کانسٹبلز غلام نازک 60194، شفیق احمد 60195، عبدالعلی 60189 اور ارشد علی کو نمبر 59291 رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نقیب قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راو انوار سمیت 12 ملزمان گرفتار جبکہ 13 فرار ہیں۔ اس حوالے سے ایس پی انوسٹی گیشن ملیر عابد قائم خانی نے بتایا کہ جب تک تفتیش ان کے پاس تھی اس وقت تک گرفتار 10 ملزمان کی سی آر ایم ایس میں فوری طور پر رجسٹریشن کرادی تھی۔راو انوار کو گرفتاری کے بعد کراچی منتقل کرتے ہی کسٹڈی اور مقدمہ کی تفتیش ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر رضوان کے سپرد کردی تھی۔

جبکہ اس حوالے سے ڈاکٹر رضوان خان کا کہنا ہے کہ راو انوار کا ریمانڈ سابق تفتیشی افسر ایس پی عابد قائم خانی اور ایس ایس پی ملیر عدیل چانڈیو کی ٹیم نے لیا تھا انہیں راو انوار کی کسٹڈی کئی دن بعد دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کرمنلز ریکارڈ آفس کیلئے ڈیٹا جیل میں لیا جاسکتا ہے۔ یہ اہم پوائنٹ سامنے آنے پر حکومت اگر چاہے تو جیل میں بھی راو انوار کی کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں رجسٹریشن کی جاسکتی ہے۔