کیا پی ٹی آئی اپنی حکومت میں آئی ایم ایف کے پاس جائے گی؟

ملک قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے؛ آئی ایم ایف یا چین کے پاس جانا پڑ سکتا ہے، پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر مئی 10:41

کیا پی ٹی آئی اپنی حکومت میں آئی ایم ایف کے پاس جائے گی؟
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21مئی 2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر سے ایک پروگرام کے دوران سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد آپ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔جس کا جواب دیتے ہوئے رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس وقت جس طرح کی صورتحال ہے۔۔پاکستان قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔کہاں ایک سال کا مجموعی بیرونی خسارہ 2 ارب ڈالر کا تھا۔

اور اب ایک مہینے کے اندر 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہو گیا ہے۔اور اب صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے لیکن پاکستان کو کسی نہ کسی طریقے سے یہ خسارہ پورا کرنا ہے۔چاہے اس کے لیے چین کے پاس جانا پڑے یا پھر آئی ایم کے پاس جانا پڑے یا کسی اور کی مدد لینی پڑے۔اسد عمرکا مزید کہنا تھا کہ ہم پالیسی بنانے کے لیے اکانومسٹ سے مشورہ کریں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کی صورت میں اپنا 100روزہ پلان پیش کیا تھا۔

100روزہ پلان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہ ہم ٹیکس کو بوجھ کم کریں گے۔ٹیکس کا جائز حصہ نہ دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کریں گے۔پانچ سالوں میں ایک کروڑ نئی نوکریاں دیں گے۔۔چھوٹی صنعتوں کوپیروں پرکھڑا کرکے نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ہاؤسنگ اور ٹورازم کو فروغ دینے سے روزگار کے مواقع میسر آئیں۔

ایف بی آرکے نظام میں اصلاحات لائی جائیں گیا۔اور ایک با صلاحیت ایف بی آر چئیرمین لایا جائے گا۔۔۔اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان اسٹیل اورپی آئی اے کو ٹھیک کرکے دکھائیں گے۔ سولر،ونڈاورہائیڈل سے بجلی پیدا کریں گے۔جب کہ زراعت کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کریں گے۔زراعت پرٹارگیٹڈسبسڈی دی جائے گی۔ لائیواسٹاک سیکٹر میں اصلاحات لائی جائیں۔ویئرہاؤس میں پڑی گندم کوبینک ہاؤس کے ذریعے فنانس کیاجائے گا۔چھوٹے کاشتکاروں کو قرضے دئیے جائیں گے۔