سیاسی جماعتوں نےانتخابی نشانات کیلئےدرخواستیں جمع کروا دیں

الیکشن کمیشن نےدرخواستیں جمع کرانےکیلئے25 مئی کی ڈیڈ لائن دی تھی،مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی، اے این پی، جے یوآئی ف اور جماعت اسلامی سمیت دیگرنے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل مئی 16:53

سیاسی جماعتوں نےانتخابی نشانات کیلئےدرخواستیں جمع کروا دیں
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 مئی 2018ء) : پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے انتخابی نشانات کیلئے درخواستیں جمع کروا دی ہیں،جن سیاسی جماعتوں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں ان میں مسلم لیگ ن،، پی ٹی آئی،، پیپلزپارٹی، اے این پی،، جے یوآئی ف اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹمنٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کیلئے25 مئی تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کی مقررہ تاریخ کے پیش نظرپارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں نے انتخابی نشان کیلئے درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ مسلم لیگ ن،، پی ٹی آئی،، پیپلزپارٹی، اے این پی،، جے یوآئی ف اور جماعت اسلامی سمیت دیگردرخواستیں جمع کروانےجماعتوں میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا عام انتخابات 2018 کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق تیارہوگیا۔

جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مذہبی منافرت پھیلانے پر پابندی عائد ہو گی۔ الیکشن کے دوران اسلحے کی نمائش پر پابندی ہو گی۔اسی طرح الیکشن میں کسی کی ذات کو نشانہ بنانے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ جبکہ انتخابی اخراجات کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا۔

ضابطہ اخلاق چیف الیکشن کمشنرکومنظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ اسی طرح ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نےعام انتخابات پراخراجات کا ابتدائی تخمینہ لگا لیا۔ جس کے مطابق 20ارب روپے سے زائد اخراجات آنے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، بیلیٹ پیپر کے کاغذ کی خریداری اورچھپائی پر ڈھائی ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ ہے۔ خصوصی فیچر والے بیلٹپیپر کی خریداری پر1 ارب سے زائد اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

جبکہ بیلٹپیپر کی چھپائی پر بھی 1 ارب سے زائد کے اخراجات ہونگے۔۔الیکشن کمیشن نے انتخابات میں سکیورٹی کے لیے 1 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی ہے۔انتخابی عملے کو الیکشن ڈیوٹی کے معاوضے کی مد میں 6 سے 7 ارب کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پولنگ میٹریل پر 1 ارب سے زائد اخراجات آنے کا امکان ہے۔ جبکہ ٹرانسپورٹیشن کی مد میں 1 ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔وزارت خزانہ انتخابی اخراجات کے بروقت فنڈ فراہم کر رہا ہے۔