سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں ،ْ عمران خان کے پروگرام پر ہنسی آتی ہے ،ْ پاکستان مسلم لیگ (ن)

عمران خان کا 100 دن کا پروگرام حقیقت پرمبنی نہیں،نقل کیلئے بھی عقل چاہیے ،ْ عمران خان نیٹو کمانڈرہے، نوایکشن ٹاک اونلی، آج پاکستان 2013 کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے، پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑا ہے ،ْعمران خان ایجنڈا صفر بٹا صفر ہے ،ْ وزیر داخلہ احسن اقبال کا پریس کانفرنس سے خطاب دو ہفتے قبل پرویز خٹک کے دستخطوں سے جاری واٹر پالیسی ٹی وی پر آکر سمجھا دیں ہم مان جائیں گے ،ْ اویس لغاری عمران خان کے پلان پر5 سال میں 8 ٹریلین لاگت آئے گی ،ْوزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

منگل مئی 18:02

سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں ،ْ عمران خان کے پروگرام پر ہنسی آتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے 100 روزہ پلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ان کا پروگرام دیکھا تو ہنسی آئی ،ْہماری سیاست میں شعبدہ بازوںکی کمی نہیں ،ْ عمران خان کا 100 دن کا پروگرام حقیقت پرمبنی نہیں،نقل کیلئے بھی عقل چاہیے ،ْ عمران خان نیٹو کمانڈرہے، نوایکشن ٹاک اونلی، آج پاکستان 2013 کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے، پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑا ہے ،ْعمران خان ایجنڈا صفر بٹا صفر ہے ۔

منگل کو پنجاب ہائوس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ،ْ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ،ْ معاون خصوصی ہارون اختر ،ْ وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری اور انجینئر بلیغ الرحمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے 100روزہ پلان پر شدید تنقید کی ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہماری سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، شعبدہ بازنے 100 دن کا پروگرام پیش کیا، ہم نے جب ان کا 100 دن کا پروگرام دیکھا توہنسی آئی کیونکہ نقل کیلئے بھی عقل چاہیے۔

انہوںنے کہا کہ جس نے 100 دن کا پروگرام پیش کیا ہے اس نے ویژن 2025 کا چربہ نکال دیا اور اس کی نقل بھی ٹھیک سے نہیں کر سکے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کا 100 دن کا پروگرام حقیقت پرمبنی نہیں، انہوں نے 2013 میں بھی خیبرپختونخوا کیلئے 90 دن کا ایجنڈا دیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی پانچ سال کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔وزیر داخلہ نے کہاکہ عمران خان نیٹو کمانڈرہے، نوایکشن ٹاک اونلی، یعنی ’’عمل نہیں صرف باتیں‘‘ کرتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ آپ عمران خان سے جتنی مرضی تقریریں کرالیں مگرعمل زیرو ہوتا ہے، 100 دن کا ایجنڈا دیکھیں، حکومت میں احتساب کرنے کا دعویٰ کیا، خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالا لگادیا گیا، پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کرپشن کے الزامات لگائے، پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر کو فارغ کردیا گیا، اتحادیوں کو کرپشن کے الزامات پر باہر نکالا پھر واپس لے لیا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ عوام نے 2013 میں تینوں سیاسی جماعتوں کو حکومت دی، ن لیگ پنجاب،، پی ٹی آئی کے پی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کو حکومت ملی، ہر جماعت اپنی کارکردگی عوام کی عدالت میں پیش کرتی ہے۔ اور اگر عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کس جماعت کی کاردگی کتنی ہے تو وہ ایک دن کراچی میں گزارے، ایک دن پشاور میں گزارے اور پھر ایک دن لاہور میں گزارے تو اسے پتہ لگ جائیگا کہ کس جماعت کی کارکردگی کتنی ہے۔

انہوں نے کہاکہ 2013 میں توانائی، سیکیورٹی، معیشت اور سماجی شعبے کا منشور دیا، ن لیگ نے ثابت کیا کہ وہ کارکردگی کی صلاحیت رکھتی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ 10 ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی، معیشت میں 13 سال کے دوران سب سے تیز ترین ترقی کی ، ہم نے دہشتگردی کی لہر کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت سے پہلے ترقی کی شرح 3 فیصد تھی جو 5 فیصد تک پہنچ گئی، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، جہاں امن بحال ہو چکا ہے ، ن لیگ نے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا، آج پاکستان 2013 کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے، پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر ہے، 3 سال میں خواب کو حقیقت بنایا، (ن) لیگ نے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج معیشت کے حوالے سے بین الاقوامی نگراں ادارے سی پیک کی تعمیر کو پاکستان کی ترقی اور اس کیلئے ایک بہت بڑا اثاثہ شمار کر رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت میں طاقت آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پاکستان کو دنیا کے بہترین 25 معیشتوں میں شامل کرنے کیلئے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا جسے ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد افراد نے مرتب کیا جو پاکستان کی ترقی کیلئے مشعل راہ ہے۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ویژن 2025 کے مقابلے میں ایک ایسا چربہ بنانے کی کوشش کی گئی جو اندرونی تضاد سے بھرا ہوا ہے، اور وہ کسی لحاظ یا پیمانے سے حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس موقع پر وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ جنوبی پنجاب پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا کہا گیا، جنوبی پنجاب پر ہم تو قراردادیں منظور کرچکے ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ عمران خان نے 100 دن کے اپنے پلان میں واٹر پالیسی پر عملدرآمد کرنے کی بات کی ہے، انہیں شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت دو ہفتہ قبل واٹر پالیسی کا اعلان کر چکی ہے جس پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے دستخط بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تو واٹر پالیسی کا علم ہی نہیں ہے، وہ عملدرآمد کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی کھپت ہماری حکومت پوری کر چکی ہے، عمران خان نے اپنے پلان میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں بجلی کی پیداوار 4 ہزار 912 گیگاواٹ آور تھی جو اب 7 ہزار 740 گیگاواٹ آور ہے اور 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی ہم نے سسٹم میں شامل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان گردشی قرضہ کو ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں انہیں تو معلوم ہی نہیں کہ گردشی قرضہ کیا ہوتا ہے، ہم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہے، وہ تو پہلے 100 دن شاید سوچتے ہی رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صوبوں کی طرف سے بجلی کی پیداوار، تقسیم اور ترسیل کی باتیں کرتے رہے ہیں، پچھلے پانچ سال میں انہوں نے منفی 6 میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ڈرامہ بازی والی پریزنٹیشن سے مسلم لیگ (ن) اور عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کے 100 دن کے ویژن پر لاگت کیا آئے گی نیا صوبہ بنانے پر 50 ارب روپے لگیں گے، 80 لاکھ خاندانوں کی امداد کیلئے 185ارب لاگت آئے گی، ایک کروڑ نوکریوں کیلئے 140 ارب روپے لگیں گے، سالانہ 50 لاکھ گھر بنانے پر 100 ارب لاگت آئے گی اور مجموعی طورپر 1598 ارب روپے سالانہ لاگت آئے گی۔وزیر خزانہ نے کہاکہ عمران خان کے پلان پر5 سال میں 8 ٹریلین لاگت آئے گی، مجموعی خسارہ 4 سے بڑھ کر8.9 فیصد تک پہنچ جائے گا لہٰذا عمران خان سے پوچھیں سالانہ 1600 ارب کہاں سے لاؤ گے بھائی ۔