وزارت توانائی نے لائن لاسز، مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے 180ارب روپے عوام پر اضافی ڈالے ،خورشید شاہ

قصور کے زمینداروں پر اوور بل ڈالنے اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے لیسکو کی جانب سے اضافی بل واپس لینے کے وعدے کے باوجود بل میں رقم مہی منہانہ کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی قصور وار ہونے پر لیسکو کے ذمہ داران افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی سفارش کر دی

منگل مئی 21:57

وزارت توانائی نے لائن لاسز، مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے 180ارب روپے عوام ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پبلک اکاونٹس کمیٹی میں چئیرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے انکشاف کیاکہ وزارت توانائی نے لائن لاسز اور مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے 180ارب روپے اضافی عوام پر اضافی رقم عوام پر ڈالی ہے ۔ قصور کے زمینداروں پر اوور بل ڈالنے اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے لیسکو کی جانب سے اضافی بل واپس لینے کے وعدے کے باوجود بل میں رقم منہا نہ کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی ، قصور وار ہونے پر لیسکو کے ذمہ داران افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی سفارش کر دی تفصیلات کے مطابق پارلیمان کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز چئیرمین کمیٹی خورشید شاہ کی زیر صدارت ہو ا، اجلاس میں وزارت توانائی کے مالی سال 2016-17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ، اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایاکہ مختلف پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذمہ اربوں روپے واجب الادا ہیں صرف 5 فیصد ان سے وصولیاں کی گئی ہیں اب بھی مختلف پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوںکے ذمہ 219 ارب روپے واجب الادا ہیں ، افیسکوکے ذمہ 45 لاکھ روپے،حیسکو کے ذمہ 6ا رب روپے،آئیسکو کے ذمہ83لاکھ، لیسکو کے ذمہ 79 کروڑ، میپکو کے ذمہ 8کروڑ 43 لاکھ، پیسکو کے ذمہ 96 ارب90 کروڑ،کیسکو کے ذمہ 80ا رب27 کروڑ،سپیکو کے ذمہ 2 کروڑ68 لاکھ اور ٹیسکو کینذمہ 32 ارب روپے واجب الاد ا ہیں۔

(جاری ہے)

آڈٹ حکام نے بتایاکہ ٹوٹل واجب الاد ارقم 227 ارب روپے بنتی تھی مگر 5 فیصد ہی ریکوری ہو سکی ہے ، اس موقع پر جب توانائی حکام نے بتایاکہ وصولیوں میںنسستی کی وجہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ سے عدم تعاون۔ کرمنل جسٹس سسٹم اور فیڈرل حکومت کی رٹ ہے جس پر ممبر کمیٹی ڈاکٹر عذرافضل پیچوہو غصہ میںا ٓگئی اور کہا کہ ریکوریاں حکومت کا کام نہیںہے آپ کا کام ہے آپ ان کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں اپ کو کون روکتا ہے ، اس موقع پر شیخ روحیل اصغر ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو کہاکہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ان پر غصہ نہ نکالیں، آڈٹ حکام نے بتایاکہ جب تک یہ ادائیگیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ بھی حل نہیںہوگا اور لوشیڈنگ کا مسئلہ رہے گا ، آڈٹ حکام نے بتایاکہ یہ بقایا جات سرکلر ڈیٹ کا نکتہ آغاز ہے ، ممبر کمیٹی مولانا عبدالففور حیدری نے کہاکہ اس محکمے کی اصلاح ضروری ہے حکومت خود پیچھا نہیں کر سکتی ایف آئی آر تو آپ نے ہی کٹوانی ہے ، نوید قمر نے پوچھا کہ سمارٹ میٹر سسٹم کا کیا ہوا ہے جس پر وزارت توانائی کے حکام نے بتایاکہ ایک ڈسکو کے لیے 700ملین روپے دیے گئے تھے لیکن یہ نظام رائج نہ ہوسکا، چئیرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہاکہ ہر ڈسکو اپنا ٹیکنکل لائن لاسز کا نقصان بتائے جس پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ لیسکو کے سالانہ لائن لاسز11.8، فیسکو کے 10.24میپکو کے 15.0 گیپکو کے 10.3 پیسکو کے 21حیسکو کے 18.5سیپکو کے 19اور کیسکو کے 17.4فیصد بنتے ہیںن، اس موقع پر خورشیدشاہ نے کہاکہ ایک فیصد سے مراد ایک ارب روپے نقصان ہے جس پر توانائی حکام نے کہاکہ آپ درست کہہ رہے ہیںندریں اثنا پی اے سی سیکرٹریٹ کی جانب سے خورشید شاہ کو ا یک لیٹر پیش کیا گیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ ایک فیصد لائن لاسز سے مراد 12ارب روپے سالانہ نقصان ہے جس پر خورشید شاہ برہم ہوگئے کہ آپ کمیٹی کو گمراہ کننحقائق بتارہے ہیں آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ایک فیصد لائن لاسز آپ نے ایک ارب روپے کے مساوی نقصان بتایا جبکہ ایک فیصد لائن لاسز 12 ارب روپے کے مساوی نقصان بنتا ہے جس پر توانائی حکا م نے کہاکہ غیر ارادی طور پر ایسا ہوا ہے جان بوجھ کر نہیں بتایا گیا، چئیرمین کمیٹی نے استفسار کیاکہ لیسکو کے کنکشنز اور سالانہ نقصان بتایا جائے جس پر کمیٹی کو لیسکو کے سربراہ نے بتایاکہ لیسکو کے سالانہ نقصانات 130 ارب روپے کے ہیں جس پر ممبر کمیٹی میاں عبدالمنان نے کہا کہ 5 سالوں میں 500 ارب روپے لائن لاسز کی مد میں ضائع کر دیے گئے ہیں 66 کے وی کے گرڈاسٹیشن ہیں اور 150 کلو میٹر کی لمبی لائنیںنہیں تو یہ نقصان ایسے ہی ہوگا، یعنی واپڈا کو 500 ارب روپے سالانہ دیے جارہے ہیں چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ ا?پ نے اعلان کیا ہے کہ انڈسٹری کے لیے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوگی، گورنمنٹ دعویٰ کررہی ہے کہ لوڈ شیڈنگ نہیںہے اور ا?پ ثابت کررہے ہیں کہ ہے ریاستیں ایسے نہیں چلتی ہیں قصور میںناورر بلنگ کرائم ابھی تک حل نہیںہوسکا ہے ،،خورشید شاہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کہاتھا کہ واپڈا سفید ہاتھی بن چکا ہے ا?ج یہ بات ثابت ہوگئی ہے ، غریب عوام جس کے پاوں میںنجوتی نہیںہے وہ بجلی کے لیے ا?پ کو سالانہ 500ا رب دے رہا ہے ، اجلاس میں ا?ڈٹ حکام نے بتایاکہ جینکو 5 نندی پور پاور پلان استعداد سے کم بجلی پیدا کرکے قومی خزانیکو 9 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ، نندی پور پاور پلانٹ نے 2ہزار 233ملین یونٹس پیدا کرنی تھیں مگر ایک ہزار 321 یونٹس پیدا کی جس سے قومی خزانے کو 9ارب سے زائد کا نقصان ہوا ، کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا، قبل ازیں پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی کااجلاس ہوا ، اجلاس نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میںوزارت پٹرولیم کے مالی سال 2011-12کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی نیتمام اعتراضات موخر کردیے،