فاٹا کے انضمام کے حوالہ سے ایسا حل چاہتے ہیں جس کا فائدہ یہاں کے عوام اور پاکستان کو ہو، وزیر اعظم

یہ ایک عمل کے ذریعے مکمل ہو گا، پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہے گا تو ملک ترقی کرے گا، انتخابات میں عوام کے ووٹ سے جو فیصلہ آئے گا وہ پاکستان کے حق میں ہو گا، ترقی کا سفر جاری رکھیں گے ،ْجہاں بھی فوج اور فوج کے محکموں کی مدد کی ضرورت ہوگی وہ فراہم کی جائے گی ،ْشاہد خاقان عباسی کا 132کے وی گرڈ سٹیشن کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب

بدھ مئی 23:46

فاٹا کے انضمام کے حوالہ سے ایسا حل چاہتے ہیں جس کا فائدہ یہاں کے عوام ..
جمرود (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے حوالہ سے ایسا حل چاہتے ہیں جس کا فائدہ یہاں کے عوام اور پاکستان کو ہو، یہ ایک عمل کے ذریعے مکمل ہو گا، پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہے گا تو ملک ترقی کرے گا، انتخابات میں عوام کے ووٹ سے جو فیصلہ آئے گا وہ پاکستان کے حق میں ہو گا، ترقی کا سفر جاری رکھیں گے ،ْجہاں بھی فوج اور فوج کے محکموں کی مدد کی ضرورت ہوگی وہ فراہم کی جائے گی۔

وہ بدھ کو یہاں 132کے وی گرڈ سٹیشن کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی، رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی اور علاقہ کے عمائدین بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے جمرود آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، اس سے پہلے بھی تقریباً تین ماہ قبل فاٹا میں کھیلوں کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آج خوشی اس بات کی ہے کہ ایک ایسی سکیم جو اسی حکومت کے دور میں شروع اور مکمل ہوئی ہے اس کا آج افتتاح کیا گیا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک حکومت کے دور میں سکیم شروع اور مکمل بھی ہو، یہ سکیم پیسکو نے مکمل کی ہے جس پر 78 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ انہوںنے گرڈ سٹیشن کیلئے زمین کی فراہمی پر مقامی افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے علاقہ میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور مجھے امید ہے کہ بجلی کے حوالے سے مقامی لوگوں کی مشکلات کم ہوں گی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ابتداء ہے، فاٹا میں ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔ انہوںنے کہا کہ پیسکو 200 ارب سے زائد کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، مقامی لوگ بجلی کی مد میں ہونے والے لائن لاسز کو روکنے میں مدد کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اتنی بجلی ہے کہ ہر گھر کو مل سکتی ہے تاہم بجلی چوری کی صورت میں لوڈ شیڈنگ جیسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ اس علاقے کیلئے گیس کے منصوبہ پر رواں مالی سال میں کام شروع ہو جائے لیکن بدقسمتی سے الیکشن کمیشن نے یکم اپریل کے بعد کوئی ترقیاتی کام شروع کرنے پر پابندی عائد کی جس کے نتیجہ میں اس پر کام شروع نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جمرود، باڑہ، شیر خان اور لنڈی کوتل میں گیس مہیا کی جائے گی، یہ سیاسی وعدے نہیں ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) وہ جماعت ہے جو کام کرتی ہے، ملک کے کسی حصہ میں بھی جائیں آپ کو مسلم لیگ (ن) کے شروع اور مکمل کئے ہوئے منصوبے نظر آئیں گے، بجلی،، گیس کے منصوبے، شاہراہیں اور موٹرویز تعمیر کی جا رہی ہیں، ملک میں1700 کلومیٹر طویل موٹروے نیٹ ورک بن رہا ہے، 2019ء کے وسط تک یہاں سے کراچی تک موٹروے کے ذریعے سفر کیا جا سکے گا، ان کاموں کے پاکستان پر بڑے اثرات نظر آئیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بات چیت ہوئی ہے کہ یہاں سے کابل تک پاکستان موٹروے بنائے گا جس سے وسطی ایشیاء تک رابطہ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کا معاملہ چل رہا ہے، تین ساڑھے تین سال سے اس معاملہ پر مشاورت ہو رہی ہے، اس حوالہ سے بہت سی آراء موجود ہیں، کوشش ہے کہ ایسا حل ہو جس کا فائدہ یہاں کے عوام اور پاکستان کو ہو، یہ ایک عمل کے ذریعے مکمل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کا وہی حق ہے کہ انہیں بھی وہ سہولیات میسر آ سکیں جو پاکستان کے دیگر حصوں کے لوگوں کو حاصل ہیں، اس معاملہ میں یہ پہلا نکتہ ہے، پہلے وسائل مہیا کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کا نظام چلانے کیلئے وسائل کا تخمینہ 32 ارب روپے سالانہ لگایا گیا ہے تاہم اگر 10 سال تک 100 ارب روپے فاٹا میں خرچ ہو گا تو ساری سکیمیں مکمل ہو سکیں گی، اس سلسلہ میں تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے، اگلے مالی سال میں اس پر کام شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف فاٹا عملدرآمد کمیٹی میں شامل ہیں، انہوںنے یقین دلایا ہے کہ جہاں بھی فوج اور فوج کے محکموں کی مدد کی ضرورت ہوگی وہ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے فاٹا کے عوام کو سہولیات اور نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اسی حکومت کے دور میں اس عمل کو شروع کر دیا جائے، یہ ایک عمل ہے جس کو جاری رکھنا پڑے گا۔

اس سلسلہ میں قانونی، ترقیاتی، انتظامی پہلو ہیں، یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے، تمام جماعتیں شامل ہوں گی تو معاملہ مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ وہ کام کریں گی جو فاٹا کے عوام کے حق میں ہو گا، فاٹا کی نمائندگی قومی اسمبلی اور سینٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں راہداری ٹیکس کے اطلاق کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے بغیر کسی مقامی ٹیکس کے مال کی ترسیل ہو سکے گی، اس سے مقامی طور پور رقم وصول ہوتی تھی تاہم یہ ضرورت حکومت پوری کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام اس سلسلہ میں سیاسی قیادت کے ساتھ مکمل تعاون کریں، یہ انقلابی قدم ہے، اس سے ہمیشہ کیلئے علاقہ کے عوام کو فائدہ پہنچے گا اور پاکستان مضبوط ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جہموری عمل کا تسلسل جاری رہے گا تو ملک ترقی کرے گا، جولائی میں انتخابات ہوں گے اور عوام کے ووٹ سے جو فیصلہ آئے گا وہ پاکستان کے حق میں ہو گا۔ قبل ازیں جمرود خیبر ایجنسی آمد پر گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے وزیراعظم کا خیر مقدم کیا۔