سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کا پیغام کس نے پہنچایا

نواز شریف کو پیغام رسانی میں کون کون لوگ ملوث تھے؟ نیا انکشاف سامنے آ گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 11:15

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کا پیغام کس نے پہنچایا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 مئی 2018ء) : سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کا کس نے کہا تھا اس سے متعلق ایک نیا انکشاف سامنے آ گیا ہے ۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو دھرنوں کے دوران مستعفی ہونے کا پیغام ایک بزنس ٹائیکون اور اسحاق ڈار کے ذریعے پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل کر اس صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق دھرنے کے دوران پاکستان کے معروف پراپرٹی بزنس ٹائیکون نے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ہنگامی طور پر منسٹر کالونی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں پیغام دیا کہ میرا یہ پیغام نواز شریف تک پہنچا دیں۔

(جاری ہے)

اس بزنس ٹائیکون نے یہ تاثر دیا کہ انہیں یہ پیغام ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے دیا اور آپ اسے نواز شریف تک پہنچا دیں، جس کے بعد اسحاق ڈار فوری طور پر وزیر اعظم ہاؤس گئے اور پیغام کے حوالے سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔

پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق جنرل راحیل شریف کی نواز شریف سے ملاقات ہونا تھی جس میں اسحاق ڈار نے بزنس ٹائیکون کا نام لے کر دوبارہ یہ پیغام سنایا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ 2014ء کے دھرنے کروائے گئے۔ 2014ء کے دھرنوں کا مقصد مجھ پر دباؤ ڈالنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ دھرنے میں کہا گیا کہ امپائر کی اُنگلی اُٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر؟انہوں نے کہا کہ ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہو جاؤ یا طویل رخصت پرچلےجاؤ ۔۔عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ مجھے نا اہل کرنے اور پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب ومحرکات قوم بھی بخوبی جانتی ہے۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سیاسی مبصرین نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس بیان کی تردید سابق ترجمان پاک فوج لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ 4 سال قبل ہی کر چکے ہیں،استعفیٰ دو یا طویل رخصت پر چلے جاؤ کے نواز شریف کے دعوے کی تردید جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کی تھی۔ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے یکم ستمبر 2014ء کو مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے یا رخصت پر جانے کا کہنے کی خبریں درست نہیں ہیں۔