جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ناقابل قبول شہادت ہے ‘سول ملٹری تعلقات میں خرابی کیس پر اثراندازہوئی-مریم نواز

بیٹی کو مقدمات میں گھسیٹا گیا اور جنہوں نے یہ روایت شروع کی ہے انہیں یہ سودا مہنگا پڑے گا۔ نوازشریف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 11:32

جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ناقابل قبول شہادت ہے ‘سول ملٹری تعلقات میں خرابی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹی کو مقدمات میں گھسیٹا گیا اور جنہوں نے یہ روایت شروع کی ہے انہیں یہ سودا مہنگا پڑے گا۔ احتساب عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آہستہ آہستہ ہمارے موقف کی سب تصدیق کریں گے. ملک میں حقیقی جمہوریت ہو تو سب کھڑے ہوں، سب کو حق کے لئے کھڑا ہونا ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے دنیا میں اپنا مذاق بنایا ہوا ہے، جنہوں نے میرے خلاف مہم چلائی ان سے پوچھیں وہ کیا چاہتے ہیں۔ بیٹی کا دور دور سے سیاست سے تعلق نہیں تھا لیکن یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹی کو مقدمات میں گھسیٹا گیا، باپ کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کٹہرے میں جا کر مقدمہ بھگت رہی ہے، بیٹی کا دور دور سے اس کیس سے واسطہ نہیں، جس زمانے کا مقدمہ بھگت رہے ہیں اس زمانے سے مریم کا تعلق نہیں، گلف اسٹیل سے متعلق مریم سے پوچھ رہے ہیں وہ اس وقت ایک سال کی تھی۔

(جاری ہے)

یہ اوچھی روایت ڈالی گئی ہے ، جنہوں نے یہ روایت شروع کی ہے انہیں یہ سودا مہنگا پڑے گا۔قبل ازیںایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز شریف نے احتساب عدالت میں 128 میں سے 46 سوالوں کے جواب ریکارڈ کرا دیئے ، بتایا کہ جب گلف اسٹیل مل لگی تو ایک سال کی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

مریم نواز نے اپنے بیان کے آغاز پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں غیر متعلقہ ہیں جب کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی۔۔مریم نواز نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی ، اس ریفرنس کے لئے نہیں۔

نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے جس کی وجہ سے سول ملٹری تناﺅمیں اضافہ ہوا۔۔مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے، انہیں آﺅٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہاکہ جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق ان کا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا، سپریم کورٹ میں دی گئی دستاویزات میں نہیں کہا گیا کہ لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک رہی ہوں۔

مریم نواز نے بتایاکہ جب گلف اسٹیل مل لگی تو ایک سال کی تھی ، حدیبیہ پیپر ملز کے قرض سے متعلق ذاتی طور پر علم نہیں۔۔مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے اور ناقابل قبول شہادت ہے ، جے آئی ٹی کے والیوم10 پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی،،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے،ایسے اختیارات دینا غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھا۔

مریم نواز نے سماعت کے آغازپراپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری عمر 44 سال ہے اور یہ بات درست ہے میرے والد عوامی عہدوں پررہے۔۔مریم نواز نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل سپریم کورٹ میں درخواستیں نمٹانے کے لیے تھی، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لیے تشکیل دی گئی۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا اخذ نتیجہ اوررائے غیر مناسب اورغیرمتعلقہ ہے، رائے کوان حالات میں اس کیس میں میرے خلاف پیش نہیں کیا جاسکتا۔

مریم نواز لکھے بیان میں کومہ اور فل اسٹاپ بھی پڑھنے لگیں جس پرمعزز جج محمد بشیر نے کہا کہ کومہ نہ پڑھیں، مریم نواز نے جواب دیا کہ میرے وکیل نے پڑھنے کو کہا میں نے پڑھ دیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 20اپریل 2017 کے فیصلے میں میرا اورشوہرکا ذکرنہیں تھا جبکہ 5 مئی 2017 کوسپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا اس ٹرائل سے کوئی تعلق نہیں ہے، جے آئی ٹی رکن بلال رسول کی اہلیہ پی ٹی آئی کی سرگرم سپورٹر ہیں اور وہ خود بھی نون لیگ کے مخالف ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے، جے آئی ٹی پرتحفظات تھے، ارکان جانبدار تھے۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ بلال رسول کا تعلق ایس ای سی پی سے تھا اور وہ میاں اظہر کے بھانجے ہیں جبکہ بلال رسول اوران کا خاندان پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی ارکان پرتحفظات سے متعلق میراموقف نوازشریف جیسا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ 10والیم پرمشتمل خود ساختہ رپورٹ غیرمتعلقہ تھی، حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں درخواستیں نمٹانے کے لیے تھی‘ ان درخواستوں کوبطورشواہد پیش نہیں کیا جاسکتا جبکہ جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ اور ناقابل قبول شہادت ہے۔ اس موقع پر کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔