اسلام آباد ،سنٹرل ڈویلپنٹ ورکنگ پارٹی کی 19.6 اربن روپے مالیت کے 24 منصوبوں کی منظوری،781.39 اربن روپے مالیت کے 12ن منصوبے مزید غور کے لئے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے

جمعرات مئی 23:38

'اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سنٹرل ڈویلپنٹ ورکنگ پارٹی نے 19.6 اربن روپے مالیت کے 24 منصوبوں کی منظوری دے دی جبکہ 781.39 اربن روپے مالیت کے 12ن منصوبے مزید غور کے لئے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے۔ سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس گزشتہ روز ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں توانائی، آبی وسائل ، ٹرانسپورٹ و مواصلات، ، فزیکل پلاننگ، گورننس ، ہائر ایجوکیشن ، تعلیم ، افرادی قوت ، ماس میڈیا ، انفارمیشن ٹینالوجی ، خوراک و زراعت ، ماحولیاتن اور صحت سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔نتوانائینکے شعبے میں تین منصوبے پیش کیے گئے جن میں چشمہ نیو کلئیر پاور پروجیکٹ یونٹ 3 اور 4 کی حتمی منظوری کے لیے معاملہ ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔

(جاری ہے)

جھمپر۔ون 220 کے وینگریڈ اسٹیشن میں پائلٹ بیٹرینانرجی سٹوریج سسٹم کی تنصیب کے لیے 836.74 ملین روپے اور درگئی ہائیڈرو الیکٹرکپ اور سٹیشن کے منصوبوں کے لئے 3098.612 ملین روپے کی منظوری دیدی۔ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکشن کے 6 منصوبوں جن میں خیبر پختونخواہ میں اقتصادی راہداری کے لیے 8357 ملین روپے ،ن شیر شاہ سوری روڈ سے لے کر بیگم کوٹ شیخوپورہ اور مرید کے روڈ تک تعمیر اور اپ گریڈیشن کے لیے 4722.024 ملین روپے،ن پشاور تورخم موٹر وے منصوبے کی تعمیر کے لیے 41440.50 ملین روپے، مردان سے صوابی تک سڑک کو دو رویہ بنانے کے لیے 9550 ملین روپین، پاکستان ریلوے کی موجودہ ایم ایل ون اور حویلیاں کے قریب خشک بندرگاہ کی اپ گریڈیشن کے لیے 381038 ملین روپے،ن کورال انٹر چینج سے جی ٹی روڈ اسلام آ?باد کے درمیان اسلام آباد ہائی وے کے کنٹرول رسائی راہداری کی تعمیر کے لیے 10753 ملین روپے کے منصوبے پیش کیے گئے جن کون اجلاس نے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔

ن آبی وسائل کے 4 منصوبے ناری دریا کے بابر کچھن کا تفصیلی ڈئزائن اور فزیبیلٹی رپورٹ کے لیے 75.072 ملین روپے ،ن ساوتھ وزیرستان ایجنسی میں چاو تنگی سمال ڈیم کے لیے 994.01 ملین روپے کا منصوبہن ،ن بلوچستان میں ابی وسائل کی ڈویلپمنٹ کے لیے 15526.00 ملین روپے اورن بلوچستان کے ضلع قلع سیف للہ کے بتو زئی سٹوریج ڈیم منصوبے کی تعمیر کے لیے 4905.667 ملین روپے کے منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔

فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے 4 منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ مری پور روڈ کراچی میں واقع پاکستان میرین اکیڈمی کے آڈیٹوریم ہال کی تعمیر کے منصوبے کے لیے 177.204 ملین روپے لاگت ،ن پاکستان میرین اکیڈمی مری پور روڈ پر واقع صدارتی فلیٹس کیٹ 4 اور 5 و وسیع کرنے کے لیے 190.345 ملین روپے ،ن نیکٹا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد جوائینٹ انٹلی جنس ڈائیرکٹریکٹ کی تعمیر کے لیے 400 ملین روپے اورن خیبر پختونخواہ انٹر میڈیٹ سٹی کی ترقین اور سرمایہن کے لیے ریڈیننس فنانسنگ منصوبے کے لیے 1320 ملین روپے کی لاگت پیش کی گئی ان چاروں منصوبوں کو اجلاس نے منظور کر لیا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 6 منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ کائٹی میں نسٹ کیمپس کی تعمیر کے لیین 2622.866 ملین روپے ،ن قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہاسٹل کی تعمیر اور کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 316.390 ملین روپے ،ن پشاور یونیورسٹی کی اپگریڈیشن کے لیے 748 ملین روپے ،ن نہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان اور مختلف ممالک کے درمیان تعلیم و تحقیق کے روابط کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ معاہدے کا منصوبہ پیش کیا جس کی کل لاگت 467.212 ملین روپے اورن گلگت بلتستان میں خلائین تحقیقاتی سنٹر کی تعمیر کے لیے 665.619 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا اجلاس نے ان تمام منصوبوں کو منظور کر لیا۔

دو منصوبے خوراک و زراعت کے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ عمر کوٹ ایرڈ زون ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 528.592 ملین روپے مختص کی گئی جس کو اجلا س میں منظور کر لیا گیا۔ دوسرا منصوبہن نباتاتی بریڈرس کے حقوقن کی رجسٹری کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 528.461 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔

ماحولیات کے تین منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ پاکستان میٹروجیکل ڈیپارٹمنٹ میں ماحولیاتی آفات سے بچاو کے لیے بہتر سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 12942 ملین روپے مختص کئے گئے جس کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک بھجوا دیا گیان۔ پورے ملک میں آفات سے بچاو کے لیین ڈزاسٹر رسک مینجمنٹ ( ڈی ط آر۔ ایم ) سروس منصوبے کے لیین 10176.120 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔

ملتان میں موسمی ریڈار کی تنصیب کے لیے 1848.650 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ پاکستان سپیس سنٹر کی تعمیر کے لیے سپارکو کی جانب سے 26998.9 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی تعمیر کے لیے 1038.557 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔

صحت کا پہلا منصوبہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں 725 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کا قصد اسلام آباد پمز ہسپتال کے ایچ وی اے سی ڈیپارٹمنٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ دوسرا منصوبہ پمز ہسپتال کے آرگن ٹرانسپلانٹ سنٹر کی موجودہ سہولیات کو بہتر بننے کے لیے 603.94 ملین روپے مختص کیے گئے جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔

ساوتل قرآن ایف ایم نیٹ ورک فیز 2 کی اپ گریڈیشن کے لیے 138.689 ملین روپے کا منصوبہ پیس کیا گیا س کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں مصنوعی ہاکی ٹرف کو بچھانے کے لیے 123.713 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ نپاکستان کے تیرہ اضلاع میں ہیوین مشینری آپریٹر سہولیات اور نیشنل ٹریننگ بیورو کے اندر سنٹرز آف ایکسلنس کی تعمیر کے لیے 1801 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ وفاقی دارلحکومت کے پاکستان ٹاون میں اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز کی تعمیر کے لیے 161.686 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا۔