طویل سیاسی بحران ملک کو اقتصادی تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے،افتخار علی ملک

جمعہ مئی 16:44

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سارک چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے جارہی ہے مگر طویل سیاسی بحران اور بزنس فرینڈلی پالیسیوں کے فقدان کی وجہ سے ملک کو ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا ہے جو ملک کو اقتصادی تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جمعہ کو یہاں شہر کے تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ اگر سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ کے لئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 70 فی صد کاروبار ختم ہو کر رہ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس سے پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے اور ہم مسلسل قتل و غارت، بم دھماکوں، دھرنوں، مظاہروں اور تشدد کی صورتحال کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں شدید کمی، کاروباری لاگت میں اضافہ، کالاباغ ڈیم اور اس طرح کے بڑے منصوبوں پر سیاست، بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتے لاکھوں افراد، چند کلو آٹے کے لئے بھگدڑ میں کچلے جانے والے غریب خواتین اور بچے، کرنسی کی قدر میں کمی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور قرضوں میں اضافے نے ترقی کی شرح کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں یہاں تک کہ دوست ممالک بھی مالی امداد فراہم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور اس وجہ سے ادائیگیوں کا مجموعی توازن منفی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معیشت پر اعتماد میں بھی کمی آئی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ ملک کے اندر اور باہر لوگوں کو سیاسی استحکام، جمہوریت کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے احترام کے بارے میں بہت سی امیدیں تھیں مگر موجودہ حکمران، پارلیمان میں واضح اکثریت ہوتے ہوئے بھی ملک کو معاشی و سیاسی استحکام دینے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2001 سے 2008 کے دوران دہشت گردی کے واقعات عروج پر تھے تاہم اس مدت کے دوران اقتصادی ترقی قابل ذکر تھی۔ اقتصادی ترقی ہمیشہ سیاسی عدم استحکام سے متاثر ہوتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینے کے لئے سیاسی سیٹ اپ کا تسلسل نہایت اہم ہیاور اقتصادی ایجنڈا کے معاملے پر تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دینا چاہئے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اچھی اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی طاقت بننے کے لئے تمام وسائل موجود ہیں لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حوصلہ افزائی، جرات اور اخلاص کے ساتھ اپنی منزل کا تعین اور فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے معدنی وسائل اگلے پانچ سالوں میں اقتصادی امداد خاص طور پر 91 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی قدر جی ڈی پی سے 187 گنا زیادہ ہے اور پاکستانی کوئلہ کے صرف 2 فیصد ذخائر میں سے 50 سال تک 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ تانبے اور کوئلہ کے علاوہ ملک میں قیمتی پتھروں، جپسم، نمک اور سنگ مرمر کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن قدرت کے اس تحفے سے مکمل فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے زیادہ تر خام شکل میں برآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہکالاباغ ڈیم صرف 2.50 روپے فی یونٹ لاگت سے 3600 میگاواٹ یا 31.5 ارب واٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے صرف 5 سال بعد ہی بجلی کی پیداوار کی مد میں ملک کو 4 بلین ڈالر کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کا ذریعہ ہے اور یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اختلافات سے بال تر ہو کر جامع معاشی منصوبہ بندی کے لئے مل بیٹھیں۔