آزاد کشمیر میں تعلیم اور تعلم کے عمل میں ہونے والی بہتری کو سبوتاڑ کیا جا رہا ہے‘سیکرٹری تعلیم نوٹس لیں

یہ بات کسی اور شعبہ میں قابل برداشت ہے لیکن تعلیم کے عمل میں ایسی بے قاعدگی کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے موجودہ حکومت کے دور میں ہونے والے اچھے اقدامات کو ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے‘سکول ٹیچر فورم ضلع باغ

جمعہ مئی 18:17

باغ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) ظلم کے ضابطے نہیں مانتے سکول ٹیچر فورم اساتذہ کے حقوق کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں سیکرٹری تعلیم نوٹس لیں چیئرمین سکول ٹیچر فورم باغ سید نجف علی گردیزی مرکزی صدر سردار ارشد علی جنرل سیکرٹری اسد اللہ ملک اور دیگر نے اپنی پریس ریلز میں کہاکہ یہ بات سب کیلئے قابل تشویش ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہونے والے اچھے اقدامات کو ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے اور تعلیم اور تعلم کے عمل میں ہونے والی بہتری کو سبوتاڑ کیا جا رہا ہی-یہ بات کسی اور شعبہ میں قابل برداشت ہے لیکن تعلیم کے عمل میں ایسی بے قاعدگی کا کوئی جواز نہیں بنتا ہی-اساتذہ برادری کے اندر تشویش کی جو لہر ہے وہ حق بجانب بھی ہی.ایک استاد بی اے بی ایڈ تعلیمی صلاحیت کے باوجود گریڈ بی -7 میں بھرتی کیا جاتا ہی.پھر اسکو دسیوں سال بعد اگلے سکیل میں جانے کا موقع ملتا تھا.جو اب خالی آسامیوں پر براہ راست ایڈہاک تقرریوں کر کے روک دیا گیا-یہ معمولی ذہانت کے آدمی کی سمجھ میں آنے والی بات محکمہ تعلیم کے ارباب اقتدار کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہی-شعبہ تعلیم سے وابستہ اساتذہ نے کیا قصور کیا ہے کہ ان پر صلاحیت اور اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے تمام راستے بند کیے جا رہے ہیں.اساتذہ اس عمل سے سخت مایوس ہوئے ہیں-سروس سٹرکچر میں آپ گریڈیشن پر 2009 کی تعلیمی پالیسی میں اتفاق ہو چکا تھا مگر تا حال اسکا نفاذ بھی ابھی تک نہ ہوا2009 کی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیمی قابلیت بھی تبدیل ہوئی تھی.اور اسطرح پرائمری اساتذہ کو سکیل بی 14 جونیئر اساتذہ کو بی 16 اور سنئر ٹیچرز کو بی 17 پر اپ گریڈ کیا جانا تھا.مگر یہ عمل سرخ فیتے کی نظر کر دیا گیا.اسوقت تمام دوسرے شعبہ جات میں سروس سٹرکچر میں واضح تبدیلیاں لا کر اپ گریڈ بھی کر دیا گیا.ایک شعبہ تعلیم کے لئے تمام اصلاحات کے دروازے بند کر دئے گئے آور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تعلیم اور تعلم کے عمل کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ہی.اور اساتذہ کے اندر جنم لینے والی تشویش کی کوئی شنوائی نہیں ہی-اساتذہ برادری کی تقسیم.کا شوشہ بھی چھوڑا گیا ہی.اساتذہ کو مراعات کے بھی نہیں سمجھا گیا محکمہ تعلیم میں روزگار کا ایک ذریعہ بنا کر اسمین سیاسی کارکنوں کو نوازنے کا عمل بھی دوبارہ شروع کر دیا گیا ہی-اسوقت شعبہ تعلیم میں جنگل کے قانون کا نفاذ ہے چند بیوروکریت شعبہ تعلیم کو ذاتی اغراض کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں.مستقل پروموشن روک کر ایڈہاک پروموشن اور تقرریوں سے اپنے عزیزوں کو نوازا جا رہا ہی.برسوں سے طے شدہ سینیارٹی کے اصول پامال کر دئے گئی.جو پروموشن ریاست بھر کے میرٹ پر ہوتے تھے راتوں رات اپنے عزیزوں کو نوازنے ضلعی بنیاد پر میرٹ بنایا گیا.سینیارٹی لسٹس کو جان بوجھ کر برسوں لیٹ کیا گیا اور سینیارٹی کو حتمی قرار دئے بغیر انچارج صدر معلمین لگا دئے گئے جبکہ دس دن بعد سینیارٹی لستس ان لائن ہو گئی تھیں-حالیہ سنئر پوسٹوں پر ایڈہاک تقرریوں کر کے پرائمری اور جونئیر اساتذہ کے حق تلفی کی گئی30 سال پرانے معاملات کاحوالہ دے کر نوجوان نسل کو بیوروکریسی اپنے کرتوتون کی سزا دے رہی ہی.یہ دادا کا حساب پوتے سے لینا کون سا انصاف ہے یہ آفلاظؤں تب کہان تھے جب یہ نا انصافی ہوئی ہی.وہ جن کے ساتھ 30 سال پہلے نا انصافی ہوئی ان ہی لوگوں کو بلا کر فائدہ دیا جا رہا ہے

(جاری ہے)

متعلقہ عنوان :