سی آئی اے 1 جیکب آباد کی کارروائی، پولیس مقابلے کے دوران 9 ماہ سے اغوا شدہ پنجاب کا رہائشی مغوی بحفاظت بازیاب

منگل مئی 22:40

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) سی آئی اے 1 جیکب آباد کی کاروائی، پولیس مقابلے کے دوران 9 ماہ سے اغوا شدہ پنجاب کا رہائشی مغوی بحفاظت بازیاب تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی جیکب آباد فیصل عبداللہ چاچڑ کے پر آر او کی جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق گزشتہ رات انچارج سی آئی اے 1 سب انسپیکٹر نثار احمد نون کو خفیہ اطلاع ملی کی ضلع شکارپور یا ضلع کشمور کندھکوٹ کے بارڈر سے ڈکیت کسی مغوی کو بلوچستان کی حدود میں شفٹ کریں گے اور ضلع جیکب آباد کے تھانہ میرپور کی حدود سے گزر کر جائیں گے مزکورہ اطلاع ملتے ہی انچارج سی آئی اے -1 نے گشتشروع کیا تو نائب جی لانڈھی کے قریب 2 موٹر سائیکلوں پر سوار ڈکیتوں نے پولیس کو نزدیک آتے ہی فائرنگ شروع کر دی، پولیس نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈکیتوں نے فرار کی راہ اختیار کی، اور ایک آنکھیں اور ہاتھ بندھے ہوئے شخص کو موقعے پر چھوڑ گئے پولیس نے جب اس شخص کی آنکھیں اور ہاتھ کھولے تو اس نے بتایا کہ وہ مغوی ہے اور ڈکیت اسے کسی اور جگہ شفٹ کرنے جارہے تھے دوران تفتیش بازیاب مغوی شخص نے اپنا نام فیاض احمد ولد مہر شاہ محمد آرائیں سکنہ موضہ دکھنہ گھارو تحصیل کروڑ پکا ضلع لودھراں پنجاب بتایابازیاب مغوی نے بتایا کہ وہ ٹھیکیداری کا کام کرتا ہے اور مورخہ 9 ستمبر 2017 (تقریبا 9 ماہ پہلی) جب وہ پنجاب سے بذریعہ مسافر گاڑی سکھر کے کسی اسٹاپ پر رات کو پہنچا تو 2 موٹر سائیکلوں پہ سوار 4 مسلحہ اشخاص نے اسے اغوا کیا اور 2 گھنٹوں کے سفر کے بعد کسی جنگل میں زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھا گیامغوی شخص کے والدین کے ساتھ ڈکیت ہر ماہ مغوی کے ہی موبائیل نمبروں سے بات کرتے تھے اور ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کرتے تھے، اور تاوان کی رقم نہ ملنے پر اس پر تشدد کیا جاتا تھاگزشتہ رات ڈکیتوں نے مغوی کے ہاتھ باندھے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کے موٹر سائکلوں پر لے کر جارہے تھے کہ اچانک راستے میں پولیس آگئی اور پولیس مقابلے کے دوران ڈکیت فرار ہوگئے اور پولیس نے مغوی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے جس کے بعد قانونی کاروائی کی جائے گی۔