خانپور میں پانی و بجلی کے شدید بحران کے بعد مشتعل مظاہرین کا چٹی کے مقام پر سڑک بلاک کر کے شدید احتجاج

بدھ مئی 15:51

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) خانپور میں بجلی اور پانی کے شدید بحران کے بعد مقامی سینکڑوں ڈنڈا بردار مشتعل مظاہرین نے چٹی کے مقام سے خانپور روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا، پانچ گھنٹوں تک سڑک بلاک رہنے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، ایم این اے بابر نواز خان نے مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے بعد بجلی بحران کے خاتمہ کیلئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی، ماہ رمضان میں کرش مشینوں کو بجلی کی سپلائی معطل کرنے سمیت وولٹیج پورے کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیلئے ڈی سی آفس میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا، وولٹیج پورے کرنے کیلئے علاقہ خانپور کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرحلہ وار ایک علاقہ کو 12 گھنٹوں تک مسلسل بجلی دینے اور دوسرے علاقہ کو بجلی بند رکھنے کی تجویز پر اتفاق کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق خانپور شہر سمیت علاقہ پہاڑ کے سینکڑوں دیہات میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کے کم ترین وولٹیج اور غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ سے عاجز سینکڑوں مرد و خواتین مشتعل مظاہرین نے چٹی کے مقام سے سحری کے بعد صبح چھ بجے کے قریب خانپور سڑک کو بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا جس سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کی ایک بڑی تعداد شدید گرمی میں گاڑیوں کے اندر تڑپتی رہی تاہم سڑک بلاک کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے تین سرکل ڈی ایس پیز اور تھانہ خانپور سمیت مختلف تھانوں کی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تاہم مشتعل مظاہرین نے پولیس افسران سے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے سڑک بلاک رکھی۔

مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واپڈا اور عوامی نمائندوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ماہ رمضان نے بجلی کے کم ترین وولٹیج کے باعث نہ پنکھے چل رہے ہیں اور نہ پانی مل رہا ہے۔ دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نے شوکت محمود کے ہمراہ ساڑھے دس بجے کے قریب موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے اور مظاہرین معاملہ کے حل کی یقین دہانی پر منتشر ہو گئے۔