احتساب عدالت میں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنسکیس کی سماعت

کیپٹن(ر) صفدر نے اپنا بیان مکمل کرلیا مریم نواز کا ایون فیلڈ پراپرٹیز سے کوئی تعلق ہے نہ میں کبھی فلیٹ کا مالک رہا ، حسن اور حسین اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں‘ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں،نوازشریف سے زیادتیوں کیخلاف سینہ سپر رہوں گا‘کیپٹن صفدر نوازشریف اور مریم نوازکی عدم حاضری پر استثنیٰ کی درخواست ‘حتمی دلائل کیلئے 5 جون تک کیس کی سماعت ملتوی (آج)العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے

بدھ مئی 22:55

احتساب عدالت میں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کیخلاف ایون ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس(لندن فلیٹس) کیس کی سماعت ہوئی، کیپٹن(ر) صفدر نے اپنا بیان مکمل کرلیا،،کیپٹن صفدر نے کہاکہ مریم نواز کا ایون فیلڈ پراپرٹیز سے کوئی تعلق ہے نہ میں کبھی فلیٹ کا مالک رہا ، حسن اور حسین اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں،لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں،،نوازشریف سے زیادتیوں کیخلاف سینہ سپر رہوں گا،،نوازشریف اور مریم نوازکی عدم حاضری پر استثنیٰ کی درخواست دی گئی،،عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس پر حتمی دلائل کیلئے 5 جون تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی،(آج)جمعرات کو العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

بدھ کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

کیس کی سماعت فاضل جج محمد بشیر نے کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم کیپٹن(ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن صفدر نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے مریم نواز کا ایون فیلڈ پراپرٹیز سے کوئی تعلق ہے نہ میں کبھی فلیٹ کا مالک رہا ، حسن اور حسین اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں،لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں، نوازشریف سے زیادتیوں کیخلاف سینہ سپر رہوں گا ،نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدم حاضری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے ملزمان کہاں ہیں مریم نواز کے وکیل نے بتایا کہ عدالت کو استثنیٰ کی درخواست دیدی ہے ۔

کیپٹن صفدر بیشترعدالتی سوالات کو غیرمتعلقہ قرار دیتے اور لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ سے مریم نواز اور ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ۔۔عدالت کے اس سوال پر کہ ان کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ۔۔کیپٹن صفدر نے لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے آرمی میں بھرتی اور 6 اگست 1990 کو وزیراعظم کے اے ڈی سی کے طور پر تقرری سے حال تک حکومتیں بدلنے کا سارا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ جب اس ملک میں غلام اسحاق نے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا تو 90دن کیلئے غلام مصطفیٰ جتوئی نے بطور نگران وزیراعظم ملک کی باگ دوڑ سنبھالی،1990میں الیکشن منعقد ہوئے اور آئی جے آئی اس میں کامیاب ہوئی اور آئی جے آئی نے اپنی حکومت بنائی،آئی جے آئی نے لیڈر آف دی ہائوس کیلئے نواز شریف کو نامزد کیا اور نواز شریف ملک کے وزیراعظم منتخب ہو گئے،حکومت کو تیسرے سال بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا اور سابق صدر غلام اسحاق نے 58ٹو بی کا استعمال کرتے ہوئے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا،،نواز شریف نے صدارتی حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں فل بینچ نے نواز شریف کو بحال کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا۔

فاضل جج نے کہاکہ آپ تقریر نہ کریں، متعلقہ باتیں بتائیں۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ نوازشریف سے رشتہ داری کی جو قیمت ادا کرنا پڑی کروں گا ، سابق وزیراعظم سیزیادتیوں کیخلاف سینہ سپر رہوںگاکیونکہ نواز شریف ہی ملک میں آئین و جمہور کے پاسبان ہیں۔۔عدالت نے کیس کی سماعت 5جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو حتمی دلائل کیلئے طلب کرلیا۔(آج)العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔