خیبرپختونخوا اسمبلی کی پانچ سیاسی جماعتوں نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کومستردکردیا

جمعہ جون 21:15

پشاور۔یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) خیبرپختونخوا اسمبلی کی پانچ سیاسی جماعتوں نے نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے ناموں کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان کانام صرف تحریک انصاف اورجمعیت علماء اسلام نہیں ہے پرویزخٹک اورلطف الرحمن کے گٹھ جوڑکے ذریعے ارب پتی شخصکولانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، پارلیمانی کمیٹی میں دیگرسیاسی جماعتوں کو نظرانداز کرکے بغض معاویہ کاثبوت دیاگیاہے۔

خیبرپختونخوااسمبلی سیکرٹریٹ میں میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے اے این پی کے سردارحسین بابک ،،قومی وطن پارٹی کے سکندرشیرپائو،پیپلزپارٹی کے ضیاء اللہ آفریدی ، ن لیگ کے سرداراورنگزیب نلہوٹھا اور جماعت اسلامی کے بحراللہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایوان میں سات سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی جس کا واضح مطلب ہے کہ کسی بھی فیصلے میں ان جماعتوں کو اعتمادمیں لیاجاناچاہئے، نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب سے پہلے پرویزخٹک نے اپنی اتحادی جماعت اسلامی اوراپوزیشن لیڈرلطف الرحمن نے چارسیاسی جماعتوں سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی، ارب پتی اے ٹی ایم کے نام کااعلان کیاگیا جب متنازعہ ہوا تو اس اے ٹی ایم کو توثیق دینے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی حیران کن امریہ ہے کہ کمیٹی میں دیگرسیاسی جماعتوں کو نکال کر صرف دو جماعتوں کونمائندگی دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ من پسندلوگوں کو لایاجارہاہے جس کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیاجائیگا۔اپوزیشن رہنمائوں نے کہاکہ بیدارماضی رکھنے والے شخص کونگران سیٹ اپ کاانچارج مقرر کیاجائے اور اس امر کیلئے غیرجانبدار پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے اربوں لے کر اب کمیٹی سے اس شخص کی توثیق کی جائیگی جس پر پہلے ہی حکومت کی جانب سے پرویزخٹک اور حکومت ہی کے لطف الرحمن کااتفاق تھا مرکز میں سابق اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ نے متعددبارتمام جماعتوں سے مذاکرات کئے حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کے دوران اپنی اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا لیکن خیبرپختونخوامیں ایسا نہیں کیاجارہا اور عمران خان بنی گالہ میں بیٹھ کریہ پوراتماشادیکھ رہے ہیں۔