روئی کے بھائو میں استحکام،پانی کی کمی کے باعث نئی فصل کی پیداوار پر سوالیہ نشان

بین الاقوامی کپاس مارکیٹوں میں روئی کے بھائو میں ہوشربا اضافہ ٹیکسٹائل سیکٹر مخمصہ کا شکار، پھٹی کی جزوی رسد شروع،سب کی نظریں نئی فصل پرہیں، نسیم عثمان

ہفتہ جون 15:16

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری محدود ہونے اور جنرز کے پاس بھی روئی کی صرف 80ہزار گانٹھوں کا قلیل اسٹاک موجود ہونے کی وجہ سے کاروباری حجم بھی بہت کم ہوگیا جبکہ روئی کے بھائو میں مجموعی طورپر استحکام رہا۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھائو فی من 6000تا 7500 روپے رہا جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7400 روپے کے بھائو پر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بیشتر ٹیکسٹائل ملز نے اپنی ضرورت کی روئی خرید کرلی ہے۔ جس کے باعث مارکیٹ میں کاروباری حجم نہایت کم ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

رمضان المبارک کی وجہ سے بھی کاروبار نسبتاً سست رہتا ہے۔ آئندہ آخری عشرے میں کاروبار بلکل کم ہوجائیگا۔ اب سب کی نظریں نئی فصل پر لگی ہوئی ہیں لیکن پانی کی کمی کے باعث فصل میں تاخیر ہورہی ہے۔

سندھ کے زریں علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال کچھ علاقوں میں بمشکل 50 فیصد کاشت ہوسکی ہے۔ بہر حال کہا جارہا ہے کہ آئندہ دنوں میں پانی کی رسد میں اضافہ ہونے کی صورت میں کاشت بڑھ جائیگی گو کہ کچھ علاقوں میں پانی ہونے اور ٹیوب ویل سے دستیاب پانی والے علاقوں میں کاشت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس کے باعث پھٹی کی جزوی طور پر رسد ہورہی ہے۔

پھٹی کا بھائو فی 40کلو 3700 تا 3800 روپے چل رہا ہے گو کہ ایک سودا 20 جون تا 10 جولائی کی ڈیلیوری کی شرط پر 2000 من پھٹی کا فی 40 کلو 4000 روپے کے بھائو پر طے پایا ہے جو گزشتہ 6 سال میں سبسے زیادہ بھائو ہے اس سے قبل 11-2010 کی سیزن میں بین الاقوامی روئی مارکیٹوں میں روئی کے بھائو میں زبردست تیزی آئی تھی اور مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھائو فی من 14000 روپے کی پاکستان کی روئی کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اس وقت پھٹی کا بھائو وقتی طور پر فی 40 کلو 5000 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

گو کہ روئی کی سیزن کا پہلا سودا بھی فی من 8100 روپے کی بلند ترین سطح پر طے پایا ہے۔ تاہم بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھائو میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیویارک کاٹن میں وعدے کا بھائو فی پائونڈ 94 امریکن سینٹ کی گزشتہ 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جبکہ حاضر ڈیلیوری A-Index 100 امریکن سینٹ (ایک ڈالر))کی ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے بھارت میں روئی کی توقع سے زیادہ برآمد کی وجہ سے بھائو میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

چین میں اسٹاک کم ہونے اور آئندہ فصل میں کمی کے امکانات کے سبب بھائو میں اضافہ کا رجحان ہے جبکہ برازیل میں بھی روئی کا بھائو 100 امریکن سینٹ ہوگیا ہے اس طرح دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں روئی کے بھائو میں اضافہ کا رجحان ہے۔ پاکستان میں بھی آئندہ سال روئی کا بھائو نسبتاً زیادہ رہنے کا امکان بتایا جاتا ہے کئی ٹیکسٹائل ملز مالکان مخمصہ کا شکار ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہمارے پاس بین الاقوامی کپاس منڈیوں سے روئی درآمد کرنے کا آپشن تھا لیکن آئندہ سیزن میں بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کے بھائو میں اضافہ کا رجحان اگر برقرار رہا تو ہمیں مقامی روئی پر اکتفا کرنا پڑے گا اگر رپورٹ کے مطابق مقامی طور پر بھی روئی کی پیداوار بھی جیسا لگ رہا ہے توقع سے کم رہی تو پہلے سے ہی انڈسٹری مشکل حالات سے دو چار ہے وہ مزید گھمبیر حالات کا شکار ہوجائیگی۔

نسیم عثمان کے مطابق کپاس کی نئی سیزن کا باقائدہ آغاز صوبہ سندھ میں جولائی کی وسط میں اور صوبہ پنجاب میں اگست کے وسط میں ہوجائیگا تاہم جزوی طور پر کئی جننگ فیکٹریاں جون میں شروع ہوجاینگی فی الحال ہارون آباد کی ایک جننگ فیکٹری نے سندھ کی پھٹی سے نئی فصل کی روئی کی 100 گانٹھیں تیار کرلی ہیں