سپریم کورٹ میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور نئے ڈیموں کی تعمیرکے حوالے سے درخواست کی سماعت ، وفاق سے جواب طلب

پیر جون 21:11

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) سپریم کورٹ نے پانی کی قلت پر قابو پانے اور نئے ڈیموں کی تعمیرکے حوالے سے دائردرخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاق سے جواب طلب کرلیا ہے اورکہاہے کہ پانی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے ،ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی کاتخفظ یقینی بنانا ہے،،بھارتی کشن گنگا ڈیم کے باعث نیلم جہلم خشک ہوگیا ہے اگر ہم نے اپنے بچو ں کو پانی نہ دیا تو اورکیا دیں گے، پیرکوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پانی کی قلت اور نئے ڈیم کی تعمیر سے متعلق بیرسٹر ظفراللہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ نے پیش ہوکرعدالت کے روبروموقف اختیار کیا کہ ملک میں اس وقت پانی کی جو صورتحال ہے اگرہم اس کو دیکھتے رہیں گے تو مر جائیں گے،،پاکستان کی 20 فیصد شرح ترقی کاانحصار پانی پر ہے، 48 سال ہو گئے ہیں کہ اس ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہا یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے، ہفتے کو کراچی،، اتوار کو لاہوراور پھر اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں پانی سے متعلق تمام مقدمات سنے جائیں گے، پانی کی قلت اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام مقدمات ہفتے کو سنے جائیں گے، یہ واٹر بم کا معاملہ ہے، ہم پانی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران بھارت کی جانب سے نئے ڈیم کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں بھارت نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کردی ہے جس سے نیلم جہلم خشک ہوگیا ہے سوال یہ ہے کہ اگرہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیں گے ، سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کا حل نہیں ہے، جبکہ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پانی کے مسئلے بڑا کوئی سنگین مسئلہ نہیں لیکن کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں، اب سپریم کورٹ رجسٹری اسلام آباد ،،پشاور اور کوئٹہ میں بھی پانی کی قلت سے متعلق کی سماعت ہوگی۔بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت ملتوی کردی۔