متحدہ مجلس عمل نے 2018ء کے انتخابات کیلئے اپنے 12 نکاتی منشورکا اعلان کردیا

منگل جون 22:26

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل نے 2018ء کے انتخابات کیلئے اپنے 12 نکاتی منشورکا اعلان کردیا۔ ایم ایم اے کے صدر مولانا فضل الرحمن نے سینیٹر سراج الحق ،،لیاقت بلوچ،،علامہ ساجد علی نقوی ،شاہ اویس نورانی،پیر اعجاز ہاشمی،علامہ عارف واحدی،عبدالغفور حیدری،اکرم درانی،میاں محمد اسلم و دیگر قائدین کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں ایم ایم اے کا منشور پیش کیا۔

منشور کے اہم نکات بیا ن کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ اورآئین پاکستان میں موجوداسلامی دفعات کا تحفظ ہمارے منشور کی پہلی ترجیح ہے۔ باوقار اور آزاد خارجہ پالیسی اور تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں گے۔

(جاری ہے)

تعلیم اور علاج کی سہولتیں سب کیلئے یکساں ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور علاج سہولتیں سب کیلئے یکساں ہونگی۔

اتفاق رائے سے نئے ڈیموں کی تعمیر کریں گے اور بجلی کی ترسیل کا موثر نظام بنایا جائے گا اور بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا موثر تدراک کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے مقامی آبادی کیلئے روزگار مہیا کیا جائے گا۔ چھوٹی صنعتوں اور دستکاریوں کا اجراء ہوگا اور قومی صنعتوں کو بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں بیرون ملک پاکستانیوں کاکردار نہایت اہم ہے۔

ایم ایم اے اوورسیز پاکستانیوں کے بھجوائے گئے زرمبادلہ کی حفاظت کرے گی ،ان کو ووٹ کاحق دیا جائے گا اور بیرون ملک درپیش مسائل کے حل کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم ایم اے اقلیتوں کو مکمل تحفظ دے گی۔ ان کیلئے تعلیم علاج روزگار اورشرعی حقوق کے تحفظ کا پورا خیال رکھاجائے گا اور اقلیتوں کی عبادت گاہو ں کے احترام اور تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔