ن لیگ کے اہم ترین اجلاس میں صورتحال سنگین

شاہد خاقان عباسی پھٹ پڑے، میٹنگ میں ایسی بات کہہ دی کہ مریم نوازکمرے سے اُٹھ کر چلی گئیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 11:35

ن لیگ کے اہم ترین اجلاس میں صورتحال سنگین
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ جاتی امرا میں بطور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ ایک آخری میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہوا تھا کہ یہ آخری میٹنگ اس وقت ہوئی جب یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ نگران وزیراعظم کون ہو گا ، شاہد خاقان عباسی بطور وزیرا عظم اسی سلسلے میں تب جاتی امرا آئے، وہاں پر شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے ایک اور بھروسہ مند شخص بھی موجود تھے۔

اس میٹنگ میں شاہد خاقان عباسی نے ایک راز بتایا اور کہا کہ ہمیں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں دو ریاستی اداروں سے، جن کا کہنا ہے کہ جو آپ کا میڈیا سیل ہے اس نے فوج اور عدلیہ کو بہت زیادہ بے عزت کرنا شروع کر دیا ہے ، ہم نے ٹریک ڈاﺅن بھی کر لیا ہے اور یہ ساری چیزیں جا کر مریم نواز سے جُڑتی ہیں کہ وہ اس سیل کو چلاتی ہیں۔

(جاری ہے)

اس پر بڑے میاں صاحب نے کہا کہ ہم ان کو بلا لیتے ہیں تاکہ سامنے بات ہو جائے جس پر مریم نواز کو بلایا گیا۔

مریم نواز سےجب یہ بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میرے میڈیا سیل میں اتنے لوگ ہیں، اب ان میں سے اگر کوئی ایسا کرے تو میں کیا کر سکتی ہوں، جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان چیزوں کے سنگین نتائج ہوں گے، اور یہ ہمیں یہ باتیں اور چیزیں سیاسی طور پر نقصان دے رہی ہیں لہٰذا آپ برائے مہربانی ایسی چیزیں یا باتیں نہ کریں جو پارٹی کو نقصان پہنچائیں اور پارٹی کے لیے مفید نہ ہوں نہیں تو ہمیں الیکشن میں بھاری نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے اور ہماری تمام سیاست تباہ ہو جائے۔

جس پر مریم نواز کمرے سے اُٹھیں اور کمرے سے نکل گئیں۔ محمد مالک نے کہا کہ اس وقت اس کمرے میں اس وقت کے وزیراعظم ، تین مرتبہ وزیر اعظم بنے نواز شریف اور تین مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے شہباز شریف بیٹھے تھے لیکن وہاں بات ایک غیر منتخب خاتون مریم نواز کے میڈیا سیل پر بات ہو رہی تھی جو ان کی پارٹی کا ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کروا رہا تھا۔ اس پر پروگرام میں موجود بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ محمد مالک کی بات میں سچائی اس لیے بھی ہے کیونکہ کچھ دن قبل ایف آئی اے نے ان کے میڈیا سیل کے کچھ لوگوں کو اُٹھایا بھی ہے۔