عمران خان بی بی سی کوخیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی نہ بتاسکے

عمران خان خیبرپختونخواہ میں نوکریاں دینے کے سوال پرآئیں بائیں شائیں کرتے رہے، بی بی سی کی اینکرنے عمران خان سے نوکریوں ،ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد کے بارے تین بار سوال کیا،لیکن عمران خان جواب دینے سے قاصررہے۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 17:38

عمران خان بی بی سی کوخیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی نہ بتاسکے
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جون 2018ء) : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان برطانوی نشریاتی ادارے کوخیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی نہ بتاسکے،،عمران خان خیبرپختونخواہ میں نوکریاں دینے کے سوال پرآئیں بائیں شائیں کرتے رہے، بی بی سی کی اینکرکے عمران خان سے نوکریوں ،ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد کے بارے تین بار سوال کیا،لیکن چیئرمین پی ٹی آئی جواب نہ دے سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دوران انٹرویو چیئرمین پی ٹی آئی عمرا ن خان سے سوال پوچھا کہ اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ آپ نے ایک کروڑلوگوں کونوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔لیکن آپ کے پانچ حکومت رہی کیا آپ نے پانچ سالوں میں 5ہزار نوکریاں بھی فراہم کی ہیں؟ کیا یہ ان کی بات درست ہے؟ جس پرعمران خان نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کوپہلی بارحکومت ملی،اس سے پہلے ایم ایم اے کوچانس ملا۔

(جاری ہے)

جس پراینکر نے بات کاٹتے ہوئے پھر سوال کیا کہ میرا سوال نوکریوں سے متعلق ہے۔۔عمران خان نے پھر آئیں بائیں شائیں کرنے کی کوشش کی تواینکرنے پھر عمران خان سے اسی سوال کا جواب دینے کی بات کی۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت نوازشریف خاص طورپرشہبازشریف سے پوچھا جائے تووہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صوبے میں کیا کیا کام کیے ہیں۔دوسری جانب سینئر تجزیہ کار رانا مبشر نے خیبرپختونخواہ اور پنجاب حکومت پرنجی ٹی وی کوتجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت کے لنک ہوتا ہے۔

عمران خان کی وفاقی حکومت نہیں تھی اس لیے وہ بجلی پیدا نہیں کرسکے۔لیکن جوچیزیں خیبرپختونخواہ خود کرسکتا تھا وہ بھی نہیں کرسکا۔انہوں نے کہاکہ میڈیا پشاور جانا پسند نہیں کرتا۔کہ وہاں زمینی حقائق کیا ہیں؟ زمینی حقائق سے ہم دور رہتے ہیں۔لوگوں کی عمران خان کے ساتھ بڑی امیدیں ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان آگے بڑھیں۔اسی طرح تجزیہ کار بیرسٹراحتشام نے بتایا کہ عمران خان کے پی میں ہیومن ڈویلپمنٹ کی بات کرتے ہیں۔

لیکن ان شعبوں میں بھی ویسے کام نہیں ہوا جیسے ہونا چاہیے تھا۔۔چیف جسٹس پاکستان نے بھی وہاں کے دورے کیے ہیں۔حالانکہ پی ٹی آئی کے پی میں اٹھارویں ترمیم کے بعد کام کرسکتی تھی۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے صوبے پر فوکس کرنے کی بجائے وفاق میں اپوزیشن ہونے پرزیادہ فوکس کیاہے۔اینٹی نوازشریف جلسوں اور دھرنوں پرفوکس زیادہ کیا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں بھی بہت سارے کام نہیں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خان صاحب نے جب نعرہ لگایا تھا کہ ہم نظریے کی سیاست کریں گے۔تواس وقت شیخ رشید نے بھی کہا تھا کہ اس کے پاس توتانگے کی سواریاں بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان الیکشن کیلئے کامیاب امیدوارہوسکتے ہیں توعاطف چوہدری کیوں نہیں ہوسکتا؟ ولید اقبال،شاہدمسعود، علی مہدی کیوں نہیں ہوسکتا۔یہ سب لوگ عمران خان کا عکس ہیں۔ان کوچھوڑ کردوسری جماعتوں والے لوگوں کوٹکٹ دیے جارہے ہیں۔  ویڈیو بھی دیکھیں