پی ٹی آئی نے سمن آباد سے لڑکیاں اغوا کرنے والے سابق گورنر پنجاب کو ٹکٹ جاری کر دیا

پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر سابق گورنر پنجاب مصطفی کھر پر 1990ء میں اصغر خان کیس میں 20لاکھ روپے لینے کا الزام بھی عائد ہے، معروف صحافی رؤف کلاسرا کا تبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 15:01

پی ٹی آئی نے سمن آباد سے لڑکیاں اغوا کرنے والے سابق گورنر پنجاب کو ٹکٹ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2018ء) ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنے نظریاتی کارکنان کو اہمیت دینے کی بجائے منتخب امیدواروں کو ٹکٹ دئیے ہیں۔جس میں سے اکثر رہنما سنگین جرائم میں بھی ملوث ہیں۔اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نوجوانوں کو استعمال کیا ہے اور ان کے خواب توڑے ہیں۔

عمران خان نے مصطفی کھر کو ٹکٹ دیا۔مصطفی کھر نے آخری بار الیکشن 1993ء میں جیتا تھا۔جب کہ مصطفی کھر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔اور سینئیر سیاست دان جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں "ہاں میں باغی ہوں" میں مصطفی کھر پر بہت بڑا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ مصطفی کھر جب گورنر تھے تو انہوں نے سمن آباد سے لڑکیاں اغوا کروائی تھیں۔

(جاری ہے)

جس کے بعد ان لڑکیوں کو گورنر ہاؤس لے کر جایا گیا۔۔جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ میں اس وقت پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا مجھے جب اس واقعے کا علم ہوا تو ہم یونیورسٹی سے نکلے اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا ۔اور کئی مشکلات کے بعد ہم نے ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا تھا۔۔جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ معلوم نہیں مصطفی کھر اتنی وسیع جائیداد کے ملک کیسے بن گئے۔

مصطفی کھر کے پاس لندن میں سردیوں میں کوٹ خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔جب کہ مصطفی کھر پر یہ بھی الزام عائد ہے کہ انہوں نے 1990ء میں اصغر خان کیس میں 20لاکھ روپے لیا تھا۔جب کہ برگیڈئیر امتیاز نے مصطفی کھر پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ 50 لاکھ روپے تو مصفطی نے ہم سے لیا ہوا ہے۔روف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ عمران خان نے پڑھے لکھے لوگوں کو نظر انداز کیا اور لوگوں کے خواب توڑے ہیں۔مزید کہا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجیے: