ہم’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت دہشت گردی اور فرقہ وارانہ مواد کی نشر و اشاعت پر مو ثر طریقے سے نبردآزما ہو رہے ہیں،

25 جولائی کو عام انتخابات ہو رہے ہیں، توقع ہے آنے والی جمہوری حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے تندہی سے کام کرے گی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے صدر مملکت ممنون حسین کا سفیروں کے اعزاز میں افطار عشائیہ کے موقع پر خطاب

بدھ جون 00:00

ہم’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت دہشت گردی اور فرقہ وارانہ مواد کی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ہم’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت دہشت گردی اور فرقہ وارانہ مواد کی نشر و اشاعت پر مو ثر طریقے سے نبردآزما ہو رہے ہیں، 25 جولائی کو عام انتخابات ہو رہے ہیں، توقع کرتا ہوں کہ آنے والی جمہوری حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے تندہی سے کام کرے گی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔

وہ منگل کو سفیروں کے اعزاز میں افطار عشائیہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ افطار عشائیہ میں شرکت پر میں دل کی گہرائی سے آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

(جاری ہے)

اسلام آباد میں مقیم سفارتکاروں کے ساتھ یہ سالانہ ملاقات اب ایک خوشگوار روایت کا روپ دھار چکی ہے جو میرے لئے باعثِ اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزہ ایک آفاقی تصوّر اور ایسی عبادت ہے جو عالم انسانیت اور مختلف مذاہب میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔

یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان میں نظم وضبط، مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت ، ایثار کا جذبہ، صبرو استقامت اور عاجزی کی کیفیات پیدا ہو تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک رب کریم کی بے پایاں رحمتوں کا مہینہ ہے اور یہ معاشرے میں طبقاتی استحکام کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ بھوک اور پیاس کی کیفیات سب پر یکساں اثر انداز ہوتی ہیں لہٰذا خالق کائنات کے احکامات پر پابندی سے تمام افراد برابری کی سطح پر ایک ہو جاتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ رمضان المبارک کا عالمگیر پیغام آج کی دنیا سے بہت مطابقت رکھتا ہے جہاں لمحہ بہ لمحہ تبدیلیاں ظہور پذیر ہو رہی ہیں، یہ عالمی سطح پر غیر معمولی تبدیلیوں کا عہد ہے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ جنگوں، مذہبی، نسلی و لسانی تعصبات اور برتری کے گھمنڈ کی وجہ سے دنیا غیر معمولی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ان پیچیدہ مسائل نے مختلف معاشروں ا ور اقوام کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اسی طرح دنیا کے مختلف خطے دہشت گردی کی لعنت سے نبردآزما ہیں، اس خوفناک تصادم میں بعض اوقات یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ اعتدال پسند قوتیں کہیں ناکام نہ ہو جائیں۔ متشدد اور تعصبانہ قوتیں مذہبی،نسلی، اقتصادی برتری اور استبدادی خواہشات انسانیت کی بقاء کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے یہ نازک لمحات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم دینی تعلیمات کی طرف رجوع کریں جو امن کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں اور مذہب جدید ترمعاشرے میں اجتماعی اور انفرادی سطح پر ایک متحدہ قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ آج دہشت گردی ایک خطرناک عفریت کا روپ دھار کر چکی ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے۔ بلا شبہ وطنِ عزیز دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ہماری معیشت کو 127 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ اس جنگ کے دوران ہمارے ہزاروں شہریوں اور سپاہیوں نے جان کی قربانی دی۔۔پاکستان نے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ان مسائل سے نمٹنے کیلئے جرا ٴتمندانہ فیصلے کئے۔

گزشتہ تین برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں تسلسل کے ساتھ کمی آئی ہے، ہماری اس کامیابی کا راز قوم کا سیاسی عزم، بھر پور اتحاد اورفوجی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ ہے جو اقوام عالم کیلئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک تکثیری معاشرہ ہے جس میں مختلف رنگ ونسل اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں جنھیں آئین اور قانوں کے تحت یکساں حقوق حاصل ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان معاملات کی بنیاد پر دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح پاکستان کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن ان آزمائشوں میں پاکستانی عوام نے جمہوریت ، صبرو برداشت اوراعتدال پسندی کو اپنی قوت بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادیوں کی ضمانت دی تھی۔

انہوں نے پاکستان کے مختلف عقائد رکھنے والوں کیلئے فرمایا کہ ’’آپ آزاد ہیں، آپ کو پاکستان کی ریاست میں اپنے مندروں، مسجدوںیادوسری عبادت گاہوں میں جانے کی مکمل آزادی ہے، آپ خواہ کسی بھی مذہب ، نسل یا ذات سے وابستہ ہوں،ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم بانی پاکستان کے انہی زرّیں اصولوں کے مطابق ایک جمہوری اور مساوات پر مبنی معاشرے کی تعمیر کیلئے کوشاں ہیں جہاں ہر شہری کو مکمل حقوق اور اپنے عقائد پر عمل پیرا ہونے کی آزادی ہو، ہم’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت دہشتگردی اور فرقہ وارانہ مواد کی نشرو اشاعت پر مو ٴثر طریقے سے نبردآزما ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عہد میں یہ ممکن نہیں رہا کہ مختلف معاشرے اور اقوام جنگ و جدل کا شکار بھی رہیں اورترقی و خوشحالی کے ثمرات بھی حاصل کریں، اس لئے انسانیت کی بہتری اور فلاح کیلئے ضروری ہے کہ اس طرزِ عمل کو ترک کرکے پڑوسی اقوام امن و سلامتی اورترقی کے عظیم مقصدکیلئے باہم شراکت داربن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ہماری کوششوں کو آگے بڑھانے کا یہ مثالی طریقہ ہو گا جس کا مقصد لوگو ں کو تحفظ اور ایسے سازگار معاشی حالات فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں مقبوضہ کشمیر کے نہتے، پر ٴْامن اور معصوم عوام پر بھارت کے بہیمانہ مظالم کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ اس سلسلے میں، میں بھارت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان نے ایک اور پانچ سالہ جمہوری دور مکمل کر لیا ہے جو پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کی دلیل ہے۔ وطنِ عزیز میں 25 جولائی کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ توقع کرتا ہوں کہ آنے والی جمہوری حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے تندہی سے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم لوگوں کی مشکلات، مجبوریوں اور دکھوں کا ہر ممکن مداوا کرنے کی کوشش کریں۔

عالم انسانیت کو درپیش کثیر الجہتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اقوام عالم ایک دوسرے کی مدد کریں اور اس مقصد کیلئے روزے جیسی مشترک اقدار کو باہمی اتفاق اور اتحاد کا ذریعہ بنالیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ مبارک کی خیر و برکت سے یہ دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوستوں کی ترقی، خوشحالی، بہترین صحت، عالم انسانیت کی فلاح و بہبود اور امن و سلامتی کیلئے دعاگو ہیں۔ اس موقع پر وزیر داخلہ اور قانون و انصاف بھی موجود تھے۔