مریم نوازکا نوازشریف کی نااہلی کےفیصلے پرنظرثانی کا مطالبہ

سپریم کورٹ میں بلوچستان کی واحد آوازکو خاموش نہیں کرنا چاہیے، شیخ رشید کے فیصلے بعد سپریم کورٹ کا فل بنچ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے پر بھی نظرثانی کرے، سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے وفاقیت پرسائے طاری کردیے ہیں۔مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ جون 18:28

مریم نوازکا نوازشریف کی نااہلی کےفیصلے پرنظرثانی کا مطالبہ
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 جون 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے پرنظر ثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے وفاقیت پرسائے طاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی سپریم کورٹ میں اہلیت پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے وفاقیت پرسائے طاری کر دیے ہیں۔

انہوں نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے پرنظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں بلوچستان کی واحد آوازکو خاموش نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے قبل مریم نوازنے ایوان عدل میں اپنے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے ریٹرننگ افسران کے سامنے پیش ہونے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

مریم نواز نے کہا کہ جب کسی فیصلے کا علم ہو تو پھر اس پر کسی طرح کی رائے کا اظہار نہیں کیا جاتا ۔

شیخ رشید کے فیصلے سے ساری تصویر واضح ہو جاتی ہے ۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ نواز شریف اسی لئے کھڑا ہے اور مقدمات کا سامنا کررہا ہے اور تکالیف برداشت کر رہا ہے ۔ یہ روایت 70سالوں سے چلی آرہی ہے کہ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو استعمال کئے ہوئے ٹشو پیپر کی طرح باہر پھینک دو لیکن جس ڈکٹیٹر نے دو بار آئین توڑا کمر درد کا بہانہ بنا کر فرار ہو گیا اس نے کاغذات نامزدگی بھی جمع کر ادئیے ہیں اور ایک فاضل جج صاحب کہہ رہے ہیںکہ آپ تشریف لائیں کوئی آپ کو گرفتار نہیں کرے گا ۔

نواز شریف کے حوالے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ اس سے جان چھڑانی ہے اور ایک بہانہ بنایا گیا ۔یہ سب کچھ اسکرپٹ کا حصہ اور فکسڈ میچ ہے۔ لیکن اس میں کہیں یہ شامل نہیں تھا کہ نواز شریف ڈرنے کی بجائے ڈٹ جائے گا ،اللہ کی ذات کا بھی ایک منصوبہ ہوتا ہے۔ ان کی سب منصوبہ بندی فیل ہو گئی ہے اور اب یہ لوگ کبھی دائیں ، کبھی بائیں اور کبھی آگے اور کبھی پیچھے دیکھ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے 120روز دھرنا دیا گیا اور یوٹرن لئے گئے ۔ ڈکٹیٹر عدالت جاتے ہوئے ہسپتال جا پہنچا اور پھر کمر درد کا بہانہ بنا کر چلا گیا ۔ اب عدالت اسے بلا رہی ہے انتظار کیا جارہا ہے کہ آپ آ جائیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ سے دعا ہے کہ ووٹ کی عزت مہم میں ہمیں کامیاب کرے کیونکہ ووٹ کی عزت کا وقت آگیا ہے اور کامیابی قریب ہے۔

میں ملک، قوم اور ووٹ کی عزت کیلئے باہر نکلی ہوں، ووٹر سے کہتی ہوں باہر نکلیں۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر کو آزادی دی جارہی ہے اور عوام کے منتخب وزیراعظم کورسوا کیا جاتا رہا ہے۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے رہنماء ملک شکیل اعوان کی شیخ رشید کی نااہلی کیلئے دائردرخواست کومسترد کردیا ہے۔جبکہ شیخ رشید کو اثاثہ کیس میں اہل قراردے دیا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا جس میں شیخ رشید کی نااہلی کے حوالے سے 20 مارچ کو محفوظ کردہ فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق شیخ رشید کو اہل قرار دیدیا گیا‘فیصلہ دو ایک کے تناسب سے آیا،جسٹس شیخ عظمت سعید نے انتہائی مختصر فیصلہ سنایا ۔ شیخ رشید کی نااہلی کیخلاف درخواست ن لیگی رہنما شکیل اعوان نے دائر کی تھی جس میں ان پر 2013 کے انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ن لیگی رہنما کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی تھی۔۔سپریم کورٹ نے 20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ بدھ کو سنایاگیا۔ شیخ رشید نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ "مجھے سب سے منع کیا تھا کہ میں عدالت نہ جاؤں لیکن میں فیصلہ سننے کے لیے آگیا ہوں "۔

فیصلہ جو بھی ہوا ہم اس قبول کریں گے "۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے شیخ رشید کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جب کہ گھر کی بکنگ 4 کروڑ 80 لاکھ سے شروع کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے تھے کہ فتح جنگ کے موضع رامہ میں زمین زیادہ لیکن کاغذات میں کم ظاہر کی گئی ہے۔۔ریکارڈ کے مطابق شیخ رشید کی زمین ایک ہزار 81 کنال ہے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 968 کنال اور 13 مرلہ ظاہر کی ہے۔نااہلی فیصلے کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آج مجھے عزت دی ہے۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔اگر آج میرے خلاف فیصلہ آتا تو میں قبول کرلیتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں برادران میں آرہا ہوں۔